اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے (تابش الوری)
اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے راہیں کسی کے نام تھیں چلنا پڑا مجھے تاریک شب نے سارے ستارے بجھا دیے میں صبح کا چراغ تھا جلنا پڑا مجھے یاران دشت رونق بازار بن گئے سنسان راستوں پہ نکلنا پڑا مجھے ہر اہل انجمن کی ضرورت تھی روشنی میں شمع انجمن تھا پگھلنا …