لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے (قتیل شفائی)

لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے پیار اگر ہو بھی جائے کسی کو اس کا اظہار کرنا منع ہے ان کی محفل میں جب کوئی جائے پہلئ نظریں وہ اپنی جھکائے وہ صنم جو خدا بن گئے ہیں ان کا دیدار کرنا منع ہے جاگ اٹھے تو آہیں …

تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر (ساحر لدھیانوی)

ہراس تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر میرے تخیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے یوں اچانک تیرے عارض کا خیال آتا ہے جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے تیرے پیراہنِ رنگیں کی جنوں خیز مہک خواب بن بن کے میرے ذہن میں لہراتر آتی ہے رات کی سرد …

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا(محسن بھوپالی)

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ بڑا دلنشین رکھتا تھا ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن کسے بتاؤں کہ میں بھی امین رکھتا تھا اتر گیا ہے رگوں میں مری لہو بن کر وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا گزرنے والے نہ یوں سرسری گزر دل سے مکاں شکستہ …

یہ کسک سی دل میں چبھی رہ گئی (بشیر بدر)

                           یہ کسک سی دل میں چبھی رہ گئی زندگی میں تمہاری کمی رہ گئی ایک میں ایک تم اور ایک دیوار تھی زندگی آدھی آدھی بٹی رہ گئی رات کی بھیگی بھیگی چھتوں کی طرح میری پلکوں پہ تھوڑی نمی رہ گئی ریت پر آنسوؤں نے تیرے نام کی جو کہانی لکھی بے پڑھی …

مسکراتی ہوئی دھنک ہے وہی (بشیر بدر)

مسکراتی ہوئی دھنک ہے وہی اس بدن میں چمک دمک ہے وہی پھول مرجھا گئے اجالوں کے سانولی شام میں نمک ہے وہی اب بھی چہرہ چراغ لگتا ہے بجھ گیا ہے مگر چمک ہے وہی وہ سراپا دیئے کی لو جیسا میں ہوا ہوں ادھر لپک ہے وہی کوئی شیشہ ضرور ٹوٹا ہے گنگتاتی …

مسافر کے رستے بدلتے رہے (بشیر بدر)

مسافر کے رستے بدلتے رہے مقدر میں چلنا تھا چلتے رہے سنا ہے انہیں بھی ہوا لگ گئی ہواؤں کے رُخ جو بدلتے رہے محبت عداوت وفا بے رُخی کرائے کے گھر تھے بدلتے رہے وہ کیا تھا جسے ہم نے ٹھکرادیا مگر عمر بھر ہاتھ ملتے رہے کوئی پھول سا ہاتھ کاندھے پہ تھا …

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر بھی رہا کرو (بشیر بدر)

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر بھی رہا کرو وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے یہاں فاصلے سے ملا کرو ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا …

کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا (بشیر بدر)

کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا وہ غزل کا لہجہ نیا نیا نہ کہا ہوا نہ سنا ہوا جسے لے گئی ہے ابھی ہوا وہ ورق تھا دل کی کتاب کا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا کہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا کئی میل ریت کو کاٹ کر کوئی موج پھول …

بے وفا با وفا نہیں ہوتا (بشیر بدر)

بے وفا با وفا نہیں ہوتا ختم یہ فاصلہ نہیں ہوتا کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا گفتگو ان سے روز ہوتی ہے  مدتوں سامنا نہیں ہوتا جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا رات کا انتظار کون کرے آج کل دن میں کیا نہیں …

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں (بشیر بدر)

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو مرے بازوؤں میں تھکی تھکی …