آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی (ساغر نظامی)

آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے میخانہ بھی بے خودئ دل کا کیا کہنا سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہستی سے مانوس بھی ہوں ہستی سے بیگانہ بھی حسن نے تیرے دنیا میں کیسی آگ لگا دی ہے برق بھی شعلہ برپا …

عشق کے علاقے میں (امجد اسلام امجد)

عشق کے علاقے میں حُکمِ یار چلتا ھے ضابطے نہیں چلتے حُسن کی عدالت میں عاجزی تو چلتی ھے مرتبے نہیں چلتے دوستی کے رشتوں کی پرورش ضروری ھے سِلسلے تعلق کے خود سے بن تو جاتے ھیں لیکن اِن شگوفوں کو ٹُوٹنے بکھرنے سے روکنا بھی پڑتا ھے چاھتوں کی مٹی کو آرزو کے …

حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے (امجد اسلام امجد)

حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے. تمہیں نکال کہ دیکھا تو سب خسارہ ہے. کس چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں تم. کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے. وہ کیا وصل کا لمحہ تھا جس کے نشے میں. تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارہ ہے. ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے. …

جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے(امجد اسلام امجد)

جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ وہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے وہ جو گیت تم نے …

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا​ (امجد اسلام امجد)

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا​ وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا​ ​ کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش​ پھر یوں ہوا کہ خود مرا چہرہ بدل گیا​ ​ جب اپنے اپنے حال پہ ہم تم نہ رہ سکے​ تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل …

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا (احمد مشتاق)

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا بس یہی ناں درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گا وہ مِرے دل کی پریشانی سے افسردہ ہو کیوں دل کا کیا ہے کل کو پھر اچھا بھلا ہو جائے گا​ گھر سے کچھ خوابوں سے ملنے کیلیے نکلے تھے ہم کیا خبر …

مِرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہا (احمد فراز)

مِرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہا وگرنہ درد کا موسم تو شہر بھر میں رہا کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا کچھ اس طرح سے گزری ہے زندگی جیسے تمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا وداعِ یار کا منظر …

تشنگی آنکھوں میں ، اور دریا خیالوں میں رھے (احمد فراز)

تشنگی آنکھوں میں ، اور دریا خیالوں میں رھے ھم نَوا گر خوش رھے ، جیسے بھی حالوں میں رھے اِس قدر دنیا کے دُکھ ، اے خُوبصُورت زندگی جس طرح تتلی کوئی ، مَکڑی کے جالوں میں‌ رھے دیکھنا اے راہ نوردِ شوق ، کُوئے یار تک کچھ نہ کچھ رنگِ حِنا ، پاؤں …

ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو (احمد فراز)

ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو  کہ خود جدا ہے تو مجھ سے نہ کر جدا مجھ کو   وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے شانے پر  وہ خواب سانپ کی مانند ڈس گیا مجھ کو   چٹخ اٹھا ہو سلگتی چٹان کی صورت  پکار اب تو مرے دیر آشنا مجھ کو …

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے (احمد فراز)

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام …