کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا (پروین شاکر)
کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی مجھے یہ لگتا نہیں بھرنے والا زندگی سے کسی سمجھوتے کے باوصف اب تک یاد آتا ہے کوئی مارنے ، مرنے والا اُس کو بھی ہم تیرے کوچے میں گزار آئے ہیں زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا اُس کا …