Monthly archives: June, 2019

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا (پروین شاکر)

  کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی مجھے یہ لگتا نہیں بھرنے والا   زندگی سے کسی سمجھوتے کے باوصف اب تک یاد آتا ہے کوئی مارنے ، مرنے والا   اُس کو بھی ہم تیرے کوچے میں گزار آئے ہیں زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا   اُس کا …

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا (پروین شاکر)

  دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا وہ ستمگر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا   واں نہیں وقت تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصت اُس سے کیا ملئے جو ہر روز کہے کل ملنا   عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم شہر کی سوچ میں ہو اور اسے …

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں (میر تقی میر)

  یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں   ایک ایک فرطِ دور میں مجھے بھی دو جامِ شراب پُر نہ کرو میں نشے میں ہوں   مستی سے درہمی ہے میری گفتگو کے بیچ جو چاہو تم بھی مجھ سے کہو،  میں …

کوفت سے جان لب پہ آئی ہے (میر تقی میر)

کوفت سے جان لب پہ آئی ہے ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے   لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر شوق نے بات کیا بڑھائی ہے   آرزو اس بلند و بالا کی کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے   دیدنی ہے شکستگی دل کی کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے   ہے …

جو اس شور سے میر روتا رہے گا ( میر تقی میر)

    جو اس شور سے میر روتا رہے گا تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا   مجھے کام رونے سےاکثر ہے ناصح تو کب تک میرے منہ کو دھوتا رہے گا   مِرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے جرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا   میں وہ رونے والا چلا …

ایک اجلا سا کانپتا دھبا (مجید امجد)

یاد   ایک اجلا سا کانپتا دھبا ذہن کی سطح پر لُڑھکتا ہوا   نقش جس میں کبھی سمٹ آئی لاکھ یادوں کی مست انگڑائی داغ جس کی جبینِ غم پہ کبھی ہو گیا آکے لرزہ بر اندام کسی بھولے ہوئے حبیب کا نام زخم جس کی تپکتی تہہ سے کبھی  رِس پڑے دُکھتے گھونگھٹ …

یہ کیا عجیب راز ہے ( مجید امجد)

  یہ کیا عجیب راز ہے   یہ کیا عجیب راز ہے ، سمجھ سکوں تو بات ہے نہ اب وہ اُن کی بے رُخی ، نہ اب وہ اِلتفات ہے   مِری تباہیوں کا بھی فسانہ کیا فسانہ ہے نہ بجلیوں کا تذکرہ نہ آشیاں کی بات ہے   یہ کیا سکُوں ہے ؟ …

سنہری زلفوں کے مست سائے ( مجید امجد)

  سنہری زلفوں کے مست سائے   نہ پھر وہ ٹھنڈی ہوائیں لوٹیں نہ پھر وہ بادل پلٹ کے آئے نہ پھر کبھی شام کے نم آلود شعلہ زاروں پہ لڑکھڑائے سنہری زلفوں کے مست سائے   سنہری زلفیں جو اڑ کے لہرا کے اِک شفق گُوں محل کی چھت سے گزر چلیں تھیں گزرتے …