زندگی ، اے زندگی (مجید امجد)
زندگی ، اے زندگی خرقہ پوش و پا بہ گل میں کھڑا ہوں ، تیرے در پر، زندگی ملتجی و مضمحل خرقہ پوش و پا بہ گل اے جہانِ خار وخس کی روشنی زندگی ، اے زندگی میں ترے در پر ، چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے سن رہا ہوں قہقہوں کے دھیمے …
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
زندگی ، اے زندگی خرقہ پوش و پا بہ گل میں کھڑا ہوں ، تیرے در پر، زندگی ملتجی و مضمحل خرقہ پوش و پا بہ گل اے جہانِ خار وخس کی روشنی زندگی ، اے زندگی میں ترے در پر ، چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے سن رہا ہوں قہقہوں کے دھیمے …
پھول کی خوشبو ہنستی آئی پھول کی خوشبو ہنستی آئی میرے بسیرے کو مہکانے میں خوشبو میں خوشبو مجھ میں اس کو میں جانوں وہ مجھ کو جانے مجھ سے چھو کر مجھ میں بس کر اس کی بہاریں اس کے زمانے لاکھوں پھولوں کی مہکاریں رکھتے …
یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی ، یہاں پارسائی حرام ہے کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب ، تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے مگر اس کا کوئی کرے گا کیا ، یہ تو میکدے کا نظام ہے جو …
دل کو مِٹا کے داغِ تمنا دیا مجھے اے عشق! تیری خیر ہو ، یہ کیا دیا مجھے محشر میں بات بھی نہ زباں سے نکل سکی کیا جھک کے اُس نگاہ نے سمجھا دیا مجھے میں اور آرزوئے وصالِ پری رُخاں اس عشقِ سادہ لوح نے بھٹکا دیا مجھے ہر بار …
ہر موسم کا سپنا موسم موسم آنکھوں کو اِک سپنا یاد رہا صدیاں جس میں سمٹ گئیں وہ لمحہ یاد رہا قوسِ قزح کے رنگ تھے ساتوں اُس کے لہجے میں ساری محفل بھول گئی، وہ چہرہ یاد رہا کا سپنا
محبت محبت اوس کی صورت پیاسی پنکھڑی کے ہونٹوں کو سیراب کرتی ہے گلوں کی آستینوں میں انوکھے رنگ بھرتی ہے سحر کے جھٹپٹے میں، گنگناتی، مسکراتی، جگمگاتی ہے محبت کے دنوں میں دشت بھی محسوس ہوتا ہے کسی فردوس کی صورت محبت اوس کی صورت محبت ابر کی صورت دلوں کی سرزمیں پر گھر …
لوگ محبت کرنے والے چُپکے چُپکے جل جاتے ہیں لوگ محبت کرنے والے پُروا سنگ نکل جاتے ہیں لوگ محبت کرنے والے ! آنکھوں آنکھوں چل پڑتے ہیں تاروں کی قندیل لیے چاند کے ساتھ ہی ڈھل جاتے ہیں لوگ محبت کرنے والے! دِل میں پھول کھلا …
قاصد خوشبو کی پوشاک پہن کر کون گلی میں آیا ہے ! کیسا یہ پیغام رساں ہے کیا کیا خبریں لایا ہے ! کھڑکی کھول کے باہر دیکھو موسم میرے دل کی باتیں، تم سے کہنے آیا ہے
ذرا سی بات زندگی کے میلے میں ، خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں، اس قدر جھمیلے میں وقت کی روانی ہے، بخت کی گرانی ہے سخت بے زمینی ہے ، سخت لامکانی ہے ہجر کے سمندر میں تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے …
رہی ہیں داد طلب ان کی شوخیاں ہم سے ادا شناس بہت ہیں مگر کہاں ہم سے سنا دیئے تھے کبھی کچھ غلط سلط قصے وہ آج تک ہیں اُسی طرح بد گماں ہم سے یہ کُنج کیوں نہ زیارت گہہِ محبت ہو ملے تھے وہ انہیں پیڑوں کے درمیاں ہم سے …