Monthly archives: November, 2019

گو دل آزار ہو، اچھّوں کا خیال اچھّا ہے (داغ دہلوی)

گو دل آزار ہو، اچھّوں کا خیال اچھّا ہے سو بَلاؤں سےپِھر ارمانِ وِصال اچھّا ہے یہ تِری چشمِ فسوں گر میں کمال اچھّا ہے ایک کا حال بُرا، ایک کا حال اچھّا ہے تاک کر دِل کو وہ فرماتے ہیں! مال اچھّا ہے؟ یہ خُدا کی قسم اندازِ سوال اچھّا ہے رُو سیاہی خطِ …

غضب ہے جس کو وہ کافر نگاہ میں رکھے (داغ دہلوی)

غضب ہے جس کو وہ کافر نگاہ میں رکھے خدا نگاہ سے اُس کی پناہ میں رکھے برا ہوں میں تو مجھے رکھیے اپنے پیش نظر برے کو چاہیے انسان نگاہ میں رکھے پہنایا ہار گلے کا پھر اس پہ یہ طرہ کہ پھول غیر کے تم نے کلاہ میں رکھے جو شیخ دیکھ لے …

دیکھ کر وہ عارض رنگیں ، ہے یُوں دل باغ باغ (داغ دہلوی)

   دیکھ کر وہ عارض رنگیں ، ہے یُوں دل باغ باغ جیسے ہوں نظارہ گل سے عنادل باغ باغ بن گیا خون کفِ پا سے گلستاں خار زار میں چلا صحرا میں گویا چند منزل باغ باغ صورت غنچہ کھلی جاتی ہیں باچھیں کس قدر کیا خوشی ہے ، کس کو مارا ، کیوں …

دل ربا جانتے دل لینے کے فن لاکھوں ہیں (داغ دہلوی)

دل ربا جانتے دل لینے کے فن لاکھوں ہیں  ان کے انداز ہزاروں ہیں ، چلن لاکھوں ہیں تازہ زخموں کی ھے گنتی ، نہ کہن داغوں کی  عاشقی میں انہیں پھولوں کے چمن لاکھوں ہیں بات وہ بات ھے جو دل میں اثر کر جاۓ  یوں تو کہنے کے لئے غنچہ دہن لاکھوں ہیں …

خرید کر دلِ عاشق کو یار لیتا جا (داغ دہلوی)

خرید کر دلِ عاشق کو یار لیتا جا نہ ہوں جو دام گرہ میں اُدھار لیتا جا نہ چھوڑ طائر دل کو ہمارے اے صیاد یہ اپنے ساتھ ہی اپنا شکار لیتا جا فلک سےکی ہوسِ عشق جب کبھی میں نے ندائیں آئیں غمِ بیشمار لیتا جا مزے وصال کے اے دل خیال یار میں …

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا (داغ دہلوی)

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا دِل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں اُلٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا دیکھا ہے بت کدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا افشائے رازِ …

ترے وعدے کو اے بتِ حیلہ جو (داغ دہلوی)

ترے وعدے کو اے بتِ حیلہ جو ، نہ قرار ہے نہ قیام ہے کبھی شام ہے، کبھی صبح ہے، کبھی صبح ہے، کبھی شام ہے مرا ذکر ان سے جو آگیا کہ جہاں میں ایک ہے باوفا تو کہا کہ میں نہیں جانتا ، مرا دور ہی سے سلام ہے   رہیں کوئی دم …

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں (داغ دہلوی)

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں ہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں ہم تصور میں بھی جو بات ذرا کہتے ہیں سب میں اڑ جاتی ہے ظالم اسے کیا کہتے ہیں جو بھلے ہیں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہیں نہ برا سنتے ہیں اچھے نہ …

افسوس میں نے روزِ ازل یہ نہ کہہ دیا (داغ دہلوی)

افسوس میں نے روزِ ازل یہ نہ کہہ دیا دے مجھ کو سب جہان کی نعمت سوائے دل گھبرا کے بزم ناز سے آخر وہ اٹھ گئے سن سن کے ہائے ہائے جگر ہائے ہائے دل کہتے نہ تھے سن کے وہ برا مان جائیں گے اے داغ ان سے اور کہو ماجرائے دل

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے (احمد مشتاق)

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے درو بام ترے اے مکاں بول! کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز …