Monthly archives: November, 2019

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں (احمد مشتاق)

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں موسمِ گل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنی ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں ہم سے مخفی نہیں کچھ رہگزرِ شوق کا حال ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں …

شامِ غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں (احمد مشتاق)

شامِ غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں کب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گذری تھی کب دھندلکا ہوا کب شام ڈھلی یاد نہیں ٹھنڈے موسم میں پکارا کوئی ہم آتے ہیں جس میں ہم کھیل رہے تھے وہ گلی یاد نہیں ان مضافات …

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا (احمد مشتاق)

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا یہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہونا دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھی جس نے دیکھا ہی نہیں اس سے خفا کیا ہونا تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا …

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا (احمد مشتاق)

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا دلِ مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا میں بہت خوش تھا کڑی دھوپ کے سائے میں کیوں تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا بجھ گئی رونقِ پروانہ تو محفل چمکی سو گئے اہلِ تمنا تو ستم گر آیا یار سب جمع ہوئے رات کی تاریکی …

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم (احمد مشتاق)

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم ہنستے رہیں گے شور مچاتے رہیں گے ہم لب سوکھ کیوں نہ جائیں گلا بیٹھ کیوں نہ جائے دل میں جو سوال ہیں اٹھاتے رہیں گے ہم اپنی رہِ سلوک میں چپ رہنا منع ہے چپ رہ گئے تو جان سے جاتے رہیں گے ہم نکلے تو …

بدن نزار ہوا دل ہوا نڈھال مرا (احمد مشتاق)

بدن نزار ہوا دل ہوا نڈھال مرا اس آرزو نے تو بھر کس دیا نکال مرا پلٹ کے بھی نہیں دیکھا پکار بھی نہ سنی رہا جواب سے محروم ہر سوال مرا جہاں اٹھانے ہیں سو رنج ایک یہ بھی سہی سنبھال خود کو مرے دل نہ کر خیال مرا وہ زلف باد صبا بھی …

یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے ( فراز)

یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے اب دل میں حوصلہ نہ …

یہ کیا کہ بیاں سب سے دل کی حالتیں کرنی (احمد فراز)

یہ کیا کہ بیاں سب سے دل کی حالتیں کرنی فراز تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی ہم اپنے دل سے ہیں مجبور …

وہ تو پتھر پہ بھی نہ گذرے خدا ہونے تک (احمد فراز)

وہ تو پتھر پہ بھی نہ گذرے خدا ہونے تک جو سفر  میں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک زندگی اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک مانگنا اپنے خدا سے بھی ہے دریوزہ گری ہاتھ پتھرا نہ گئے دستِ دعا ہونے تک اب کوئی …

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو (احمد فراز)

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو ہنسی خوشی سے بچھڑ …