کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں (احمد مشتاق)
کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں موسمِ گل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنی ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں ہم سے مخفی نہیں کچھ رہگزرِ شوق کا حال ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں …