Monthly archives: November, 2019

پاک سر زمین شاد باد

ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻥ ﭼﻨﺪ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﺟﺴﮯ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺣﻖ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻧﮧ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮨﺮ ﮐﺲ ﻭ ﻧﺎﮐﺲ ﺟﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ …

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے (اختر شیرانی)

اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے وہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئے ویراں ہیں صحن و باغ بہاروں کو کیا ہوا وہ بلبلیں کہاں وہ ترانے کدھر گئے ہے نجد میں سکوت ہواؤں کو کیا ہوا لیلائیں ہیں خموش دوانے کدھر گئے اجڑے پڑے ہیں دشت غزالوں پہ کیا بنی سونے …

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی (اختر شیرانی)

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی لالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئی کوچۂ حسن چھٹا تو ہوئے رسوائے شراب اپنی قسمت میں جو لکھی تھی وہ خواری نہ گئی ان کی مستانہ نگاہوں کا نہیں کوئی قصور ناصحو زندگی خود ہم سے سنواری نہ گئی چشم محزوں پہ نہ لہرائی وہ …

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا (اختر شیرانی)

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا تُم نہ ہوتے نہ سہی ‘ ذِکر تمہارا ہوتا ترکِ دنیا کا یہ دعویٰ ہے فُضول اے زاہد بارِ ہستی تو ذرا سر سے اُتارا ہوتا وہ اگر آ نہ سکے ‘ موت ہی آئی ہوتی ہجر میں کوئی تو غم خوار ہمارا ہوتا زندگی کتنی مسرت …

میں آرزوئے جاں لکھوں، یا جانِ آرزؤُ (اختر شیرانی)

میں آرزوئے جاں لکھوں، یا جانِ آرزؤُ تو ہی بتا دے ناز سے، ایمانِ آرزؤُ آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھول شاداب ہو رہا ہے گلستان آرزؤُ ایمان و جاں نثار تری اک نگاہ پر تُو جان آرزو ہے تو ایمان آرزؤُ مصر فراق کب تلک اے یوسف اُمید روتا ہے تیرے …

پھر یاد وہ آتے ہیں (اختر شیرانی)

یاد پھر یاد وہ آتے ہیں ساون کے بھرے بادل، دل میرا دکھاتے ہیں پھر بدلیاں چھاتی ہیں امیدیں ستاتی ہیں ارمان رلاتے ہیں جاکر کوئی سمجھائے کیوں اب بھی نہ گھر آئےسب اپنے گھر آتے ہیں رہ رہ کے ہیں یاد آتے وہ بھولے نہیں جاتے،ہم لاکھ بھلاتے ہیں کسطرح مٹے یہ غم بیتے …

پہچان کے موسموں کا سفر (احمد شمیم)

پہچان کے موسموں کا سفر موسموں کی پُراسرار خوشبو کہے میں تمہارے لئے۔۔۔۔۔۔ ! آسماں جب نومبر کی نیلی قبا اوڑھ لے اپنے ہونے کی دھن میں کسی اپنے جیسے پرندے کو اڑتے ہوئے دیکھنا یا کسی اپنی ہی خواہش میں نہائی ہوئی رات کو اپنے اوپر اترتے دیکھنا برف کی پہلی آواز !جب سوکھے …

شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر (قتیل شفائی)

شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر دستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کر لوٹا ہے سدا جس نے ہمیں دوست بنا کر ہم خوش ہیں اسی شخص سے پھر ہاتھ ملا کر ڈر ہے کہ نہ لے جائے وہ ہم کو بھی چرا کر ہم لائے ہیں گھر میں جسے مہمان …

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال (قتیل شفائی)

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال اک تو ہی دھنوان ہے گوری ، باقی سب کنگال ہر آنگن میں سجے نہ تیرے اجلے روپ کی دھوپ چھیل چھبیلی رانی تھوڑا گھونگھٹ اور نکال بھر بھر نظریں دیکھیں تجھ کو آتے جاتے لوگ دیکھ تجھے بدنام نہ کر دے ہرنی جیسی چال بیچ میں …

؛یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا (مرزا غالب)

؛یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا تِرے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا کوئی میرے دل سے پوچھے تِرے تیرِ نیم کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا …