نہ کوئی چاپ نہ سایہ کوئی نہ سرگوشی (احمد فراز)
نہ کوئی چاپ نہ سایہ کوئی نہ سرگوشی مگر یہ دل کہ بضد ہے نہیں نہیں کوئی ہے یہ ہم کہ راندۃ افلاک تھے کہاں جاتے یہی بہت ہے کہ پاؤں تلے زمیں کوئی ہے ہر اِک زبان پہ اپنے لہو کے ذائقے ہیں نہ کوئی زہرِ ہلاہل نہ انگبیں کوئی ہے بھلا لگا ہے …