Monthly archives: January, 2020

کوئی موسم ہو، دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم (امجد اسلام امجد)

کوئی موسم ہو، دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم کہ بدلا ہی نہیں جاناں تمہارے بعد کا موسم نہیں تو آزما کے دیکھ لو کیسے بدلتا ہے تمہارے مسکرانے سے دلِ ناشاد کا موسم صدا تیشے سسے جو نکلی، دلِ شیریں سے اٹھی تھی چمن خسرو کا تھا مگر رہا فرہاد کا موسم پرندوں …

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں (امجد اسلام امجد)

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں اپنے گھر میں ہیں یا سفر میں ہیں یوں تو اڑنے کو آسماں ہیں بہت ہم ہی آشوبِ بال وپر میں ہیں زندگی کے تمام تر رستے موت ہی کے عظیم ڈر میں ہیں اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں جس قدر خواہشِ سفر میں ہیں سیپ …

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی (امجد اسلام امجد)

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی بام و در پہ نقش تحریرِ ہوا رہ جائے گی آنسوؤں کا رزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں خشک ہونٹوں پر لرزتی اک دعا رہ جائے گی رو برو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے ہم نہیں ہوں گے تو دنیا گردِ پا رہ …

کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے (امجد اسلام امجد)

کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے نہ یہ سمجھو کہ اس کو غم نہیں ہے سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے سمجھ میں نہیں آتا کسی کی اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے یہ بستی ہے ستم …

وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بےقرار کیا (جوش ملیح آبادی)

وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بےقرار کیا! بس اب تمہیں پہ چلو ہم نے انحصار کیا تمہارا ذکر نہیں ہے تمہارا نام نہیں کیا نصیب کا شکوہ ہزار بار کیا ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا جب اس نے وعدہ کیا، ہم نے اعتبار کیا مال ہم نے دیکھا جو …

کیوں نہ ہم عہدِ رفاقت کو بھلانے لگ جائیں (احمد فراز)

کیوں نہ ہم عہدِ رفاقت کو بھلانے لگ جائیں شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں یہی ناصح! جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ …

مجھ سے بچھڑ کے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے (محسن نقوی)

مجھ سے بچھڑ کے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختمِ وصل کا لمحہ ہے، رائیگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ …

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو (میاں داد خان سیاح)

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو جاں بلب دیکھ کے مجھ کو مرے عیسیٰ نے کہا لا دوا درد ہے یہ، کیا کروں مر جانے دو لال ڈورے تری آنکھوں میں جو دیکھے تو کھلا مئے گل رنگ سے لبریز ہیں پیمانے دو ٹھہرو! …

اداسی کا یہ پتھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتا (بشیر بدر)

اداسی کا یہ پتھر آنسوؤں سے نم نہیں ہوتا ہزاروں جگنوؤں سے بھی اندھیرا کم نہیں ہوتا کبھی برسات میں شاداب بیلیں سوکھ جاتی ہیں ہرے پیڑوں کے گرنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا بہت سے لوگ دل کو اس طرح محفوظ رکھتے ہیں کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا بچھڑتے …

میں نے ہر چند غمِ عشق کو کھونا چاہا (ساحر لدھیانوی)

ناکامی میں نے ہر چند غمِ عشق کو کھونا چاہا غمِ الفت غمِ دنیا میں سمونا چاہا وہی افسانے مری سمت رواں ہے اب تک وہی شعلے مرے سینے میں نہاں ہیں اب تک وہی بے سود خلش ہے مرے سینے میں ہنوز وہی بیکار تمنائیں جواں ہیں اب تک وہی گیسو مری راتوں پہ …