Category «شاعری»

ترے خط آنے سے دل کو مرے آرام کیا ہو گا (میرزا محمد رفیع سودا)

ترے خط آنے سے دل کو مرے آرام کیا ہو گا خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا نہ دو ترجیح اے خوباں کسی کو مجھ پہ غربت میں زیادہ مجھ سے کوئی بے کس و ناکام کیا ہو گا مگر لائق نہیں اس دور میں ہم بادہ خواری کے جو دیوے گا …

یا رب غمِ ہجراں میں، اتنا تو کیا ہوتا (چراغ حسن حسرت)

یا رب غمِ ہجراں میں، اتنا تو کیا ہوتا جو ہاتھ جگر پر ہے، وہ دستِ دعا ہوتا اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت یا غم نہ دیا ہوتا، یا دل نہ دیا ہوتا ناکامِ تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو …

آؤحسنِ یار کی باتیں کریں (چراغ حسن حسرت)

آؤحسنِ یار کی باتیں کریں زلف کی رُخسار کی باتیں کریں زلفِ عنبر بار کے قصے سنائیں طرۃ طرار کی باتیں کریں پھول برسائیں بساطِ عیش پر روزِ وصلِ یار کی باتیں کریں نقدِ جاں لے کر چلیں اس بزم میں مصر کے بازار کی باتیں کریں ان کے کوچے میں جو گزری ہے کہیں …

آنکھ سے دور نہ ہو دل سےا تر جائے گا (احمد فراز)

آنکھ سے دور نہ ہو دل سےا تر جائے گا وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا زندگی …

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد (جگر مراد آبادی)

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے اب تک ہے وہ اک نغمئہ بے ساز و سدا یاد …

جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے (مصطفیٰ خان شیفتہ)

جو کوئے دوست کو جاؤں تو پاسباں کے لیے نہیں ہے خواب سے بہتر کچھ ارمغاں کے لیے تمام علت درماندگی ہے قلت شوق تپش ہوئی پر پرواز مرغ جاں کے لیے شریک بلبل و قمری ہیں وہ زبوں فطرت جو بے قرار رہے سیر گلستاں کے لیے امید ہے کہ نباہیں گے  امتحاں لے …

رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا (فیض احمد فیض)

رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا اور کیا دیکھنے کو باقی ہے آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا وہ مرے ہو کے بھی مِرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا آج ان کی نظر میں ہم نے سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا …

صبح کا بھید کیا ملا ہم کو (باقی صدیقی)

صبح کا بھید کیا ملا ہم کو لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو بھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھی نہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی تو کس رنگ میں دیکھا ہم کو …

رسمِ سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے (باقی صدیقی)

رسمِ سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے عظمتِ عشق بڑھادی ہم نے آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے دل کو آنے لگا بسنے کا خیال آگ جب گھر کو لگا دی ہم نے اس قدر تلخ تھی رودادِ حیات یاد آتے ہی بھلا دی ہم نے حال جب …

دل قتیلِ ادا تھا پہلے بھی (باقی صدیقی)

دل قتیلِ ادا تھا پہلے بھی کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی ہم تو ہر دور کے مسافر ہیں ظلم ہم پر روا تھا پہلے بھی وقت کا کوئی اعتبار نہیں ہم نے تم سے کہا تھا پہلے بھی یہی رنگِ چمن کی باتیں تھیں یہی شورِ صبا تھا پہلے بھی کسی در پر …