آرہی ہے باغ سے مالن وہ اٹھلاتی ہوئی (جوش ملیح آبادی)
مالن آرہی ہے باغ سے مالن وہ اٹھلاتی ہوئی مُسکرانے میں لبوں سے پھُول برساتی ہوئی بار بار آنکھیں اُٹھاتی سانس لیتی تیز تیز رس جوانی کا گھنی پلکوں سے ٹپکاتی ہوئی پاؤں رکھتی ناز سے شبنم کے قطروں کی طرح سبزۃ خوابیدۃ گلشن کو چونکاتی ہوئی آستینوں میں جھلکاتی ہوئی بانہوں کا رنگ کاکلوں …