گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں (قتیل شفائی)

گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں   شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے ہم اُسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں   بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم شعلئہ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں   خودنمائی تو نہیں …

شاعری سچ بولتی ہے (قتیل شفائی)

لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زباں ڈولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے تیرا اصرار کہ چاہت مری بے تاب نہ ہو واقف اس غم سے مرا حلقئہ احباب نہ ہو تو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں رولتی ہے شاعری سچ …

دیکھ بٹیا یہ تِرےے ہی فائدے کی بات ہے(قتیل شفائی)

  نائیکہ دیکھ بٹیا یہ تِرےے ہی فائدے کی بات ہے   دیکھ جھٹلایا نہیں کرتے بڑے بوڑھوں کی بات تو نہ مانے گی تو اِس بازی میں کھا جائے گی  مات واری جاؤں یہ جہاں جو کچھ بھی کہتا ہے کہے تجھ میں کوئی عیب ہے جو ایک کی ہو کر رہے؟ اِس طرح …

تم آئے ہو نہ شبِ انتظار گزری ہے (فیض احمد فیض)

تم آئے ہو نہ شبِ انتظار گزری ہے تلاش میں سحر بار بار گزری ہے   ہوئی ہے حضرتِ ناصح سے گفتگو جس شب وہ شب ضرور سرِ کوئے یار گزری ہے   وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے   نہ گُل کھِلے ہیں …

درد آئے گا دبے پاؤں۔۔۔۔(فیض احمد فیض)

  اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کو فکر آلے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے         درد آئے گا دبے پاؤں لئے سرخ چراغ وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے شعلئہ درد پہلو میں لپک اُٹھے گا دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اُٹھے گا حلقئہ …

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نوبہار چلے (فیض احمد فیض)

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کروبار چلے   قفس اداس ہے یارو بادِ صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے   کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے   جو ہم پہ گزری …

دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں (فیض احمد فیض)

یاد   دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب دشتِ تنہائی میں دوری کے خس وخاک تلے کھِل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب   اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم دور افق پار چمکتی …

جمے گی کیسے بساطِ یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں (فیض احمد فیض)

جمے گی کیسے بساطِ یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں سجے گی کیسے شبِ نگاراں کہ دل سرِ شام بجھ گئے ہیں   وہ تیرگی ہے رہِ بتاں میں چراغِ رخ ہے نہ شمعِ وعدہ کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب درو بام بجھ گئے ہیں   بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ …

آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال (فیض احمدفیض)

  آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی دل نشیں حرف کوئی ، قہر بھرا حرف کوئی حرفِ الفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے جس سے ملتی ہے نظر بوسئہ لب کی صورت اتنا روشن کہ سرِ موجئہ زر ہو جیسے صحبتِ یار میں آغازِ …