کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے (فیض انور)

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے پر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا …

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے (وحشت رضا علی کلکتوی)

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے کیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے جس سے چاہو پوچھ لو تم میرے سوز دل کا حال شمع بھی محفل میں ہے پروانہ بھی محفل میں ہے عشق غارت گر نے شہہ دی حسن آفت خیز کو شوق بسمل ہی …

سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے (شکیب جلالی)

سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے میں نے پتھر سے جن کو بنایا صنم وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے حشر ہے وحشتِ دل کی آوارگی ہم سے پوچھو محبت کی دیوانگی جو پتہ پوچھتے تھے کسی کا کبھی لاپتہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے ہم سے یہ سوچ …

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں (اقبال عظیم)

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں پرسشِ حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو پرسشِ حال ، طبیعت کو گوارا بھی نہیں یوں سرِ راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر تم نے دیکھا بھی نہیں، ہم نے پکارا بھی نہیں عرضِ احوال کی …

چاند تاروں کی بھری بزم اٹھی جاتی ہے (جاوید وشینٹھ)

چاند تاروں کی بھری بزم اٹھی جاتی ہے اب تو آ جاؤ، حسیں رات ڈھلی جاتی ہے رفتہ رفتہ تری ہر یاد مٹی جاتی ہے گرد سی وقت کے چہرے پہ جمی جاتی ہے میرے آگے سے ہٹا لو مے و مینا و سبو ان سے کچھ اور مری پیاس بڑھی جاتی ہے آج اپنے …

آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر (شاہنواز زیدی)

آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر جا نہیں سکتے کہیں دریا روانی چھوڑ کر وہ مرے کاسے میں یادیں چھوڑ کر یوں چل دیا جس طرح الفاظ جاتے ہوں معانی چھوڑ کر تم مرے دل سے گئے ہو تو نگاہوں سے بھی جاؤ پھر وہاں ٹھہرا نہیں کرتے نشانی چھوڑ کر اب …

اب رہا کیا ہے جو اَب آئے ہیں آنے والے (بسمل عظیم آبادی)

اب رہا کیا ہے جو اَب آئے ہیں آنے والے جان پر کھیل چُکے جان سے جانے والے یہ نہ سمجھے تھے کہ یہ دن بھی ہیں آنے والے اُنگلیاں ہم پہ اٹھائیں گے اٹھانے والے کون سمجھائے نہ اٹھلا کے سرِ رہ چلئے ہیں یہ انداز گنہگار بنانے والے پوچھنے تک کو نہ آیا …

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں (ابن انشا)

تم انشا جی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں؟ ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بے چارا ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی،  انسان کو رکھتی ہیں دکھیارا ہاں بے کل بے کل رہتا ہے، ہو پیت میں جس نے جی ہارا پر شام سے لے کر صبح …

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا (داغ دہلوی)

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانہ دل کا نگہِ یار نے کی خانہ خرابی ایسی نہ ٹھکانا ہے جگر کا، نہ ٹھکانا دل کا پوری مہندی بھی …

کام آسکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں (اختر شیرانی)

کام آسکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثر جائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں اک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم نازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں ظلمت …