کعبے کی سمت جا کے مرا دھیان پھر گیا (داغ دہلوی)

کعبے کی سمت جا کے مرا دھیان پھر گیا اس بت کو دیکھتے ہی بس ایمان پھر گیا محشر میں داد خواہ جو اے دل نہ تو ہوا تو جان لے یہ ہاتھ سے میدان پھر گیا چھپ کر کہاں گئے تھے وہ شب کو کہ میرے گھر سو بار آ کے ان کا نگہبان …

خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا (داغ دہلوی)

خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا وعدہ ایسا کوئی جانے کہ مقرر آیا مجھ سے مے کش کو کہاں صبر، کہاں کی توبہ لے لیا دوڑ کے جب سامنے ساغر آیا غیر کے روپ میں بھیجا ہے جلانے کو مرے نامہ بر ان کا نیا بھیس بدل کر آیا سخت جانی …

کب ہوا اے بتِ بیگانہ منش تو اپنا (داغ دہلوی)

کب ہوا اے بتِ بیگانہ منش تو اپنا دل جو اپنا ہے نہیں اس پہ بھی قابو اپنا تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنا ابتدائے رمضاں میں ہے مہِ عید کی دھوم کسی کافر نے دکھایا نہ ہو ابرو اپنا بعد میرے نہ رہا دیکھنے …

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے (داغ دہلوی)

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے  انداز وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے …

شوخی نے تیرے کام کیا اک نگاہ میں (داغ دہلوی)

شوخی نے تیرے کام کیا اک نگاہ میں صوفی ہے بت کدے میں، صنم خانقاہ میں دل میں سماگئی ہیں قیامت کی شوخیاں وہ دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں اس توبہ پر ہے ناز تجھے زاہد اس قدر جو ٹوٹ کر شریک ہو میرے گناہ میں آتی ہے بات بات مجھے …

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے پیام آتے ہیں (داغ دہلوی)

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے پیام آتے ہیں کس قیامت کے یہ نامے مِرے نام آتے ہیں تو سہی حشر میں تجھ سے جو نہ یہ کہوادوں دوست وہ ہوتے ہیں جو وقت پر کام آتے ہیں راہرو راہِ محبت کا خدا حافظ ہے اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں صبر …

جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو (داغ دہلوی)

جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو خلش کیوں ہو تپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو مزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت کا خوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں ہو  یہ مصرع لکھ دیا ظالم نے میری لوحِ تربت پر …

عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا (داغ دہلوی)

عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہییں اعتبار ہوتا یہ مزہ تھا دل لگی کا …

ہر سانس ہے شرحِ ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے (دل شاہجہاں پوری)

ہر سانس ہے شرحِ ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے تکمیلِ وفا ہے مٹ جانا ، جینے کی تمنا کون کرے جو غافل تھے ہُشیار ہوئے جو سوتے تھے بیدار ہوئے جس قوم کی فطرت مردہ ہو اس قوم کو زندہ کون کرے ہر صبح کٹی ہر شام کٹی ، بیداد سہی افتاد سہی …

نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگے (شکیب بنارسی)

نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگے نہ آئے نیند تو آنکھوں کو کیا خماری لگے خوشی نہیں تھی تو غم سے نباہ کر لیتے کسی کے ساتھ طبیعت مگر ہماری لگے کوئی نہ ہو کبھی احباب کے کرم کا شکار مری طرح نہ کسی دل پہ زخم کاری لگے ہمیں تڑپتا ہوا …