سرِ شام اس نے منہ سے جو رخِ نقاب الٹا (غلام ہمدانی مصحفی)
سرِ شام اس نے منہ سے جو رخِ نقاب الٹا نہ غروب ہونے پایا وہیں آفتاب الٹا مہِ چار دہ کا عالم میں دکھاؤں گا فلک کو اگر اُس نے پردۃ منہ سے شبِ ماہتاب الٹا جو ہیں آشنائے مشروب وہ کسی سے ہوں نہ سائل اسی واسطے رہے ہے قدحِ حباب الٹا جو خفا …