سرِ شام اس نے منہ سے جو رخِ نقاب الٹا (غلام ہمدانی مصحفی)

سرِ شام اس نے منہ سے جو رخِ نقاب الٹا نہ غروب ہونے پایا وہیں آفتاب الٹا مہِ چار دہ کا عالم میں دکھاؤں گا فلک کو اگر اُس نے پردۃ منہ سے شبِ ماہتاب الٹا جو ہیں آشنائے مشروب وہ کسی سے ہوں نہ سائل اسی واسطے رہے ہے قدحِ حباب الٹا جو خفا …

حیراں ہوں اپنے کام کی تدبیر کیا کروں (غلام ہمدانی مصحفی)

حیراں ہوں اپنے کام کی تدبیر کیا کروں جاتی رہی ہے آہ سے تاثیر کیا کروں شورِ جنوں ہوا ہے گُلو گیر کیا کروں ہے ٹوٹی جاتی پاؤں کی زنجیر کیا کروں نا گفتنی ہے حالِ دلِ ناتواں مرا آتی ہے شرم میں اسے تقریر کیا کروں دل مانگتا ہے مجھ سے، مجھے بھی دیے …

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا (غلام ہمدانی مصحفی)

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا کبھی اس سے بات کرنا، کبھی اس سے بات کرنا تجھے کس نے روک رکھا، ترے جی میں کیا یہ آئی کہ گیا تو بھول ظالم، ادھرالتفات کرنا ہوئی تنگ اس کی بازی، مری چال سے تو رخ پھیر وہ یہ ہمدموں سے بولا کوئی اس …

ایسے ڈرے ہیں کسی کی نگاہِ غضب سے ہم (غلام ہمدانی مصحفی)

 ایسے ڈرے ہیں کسی کی نگاہِ غضب سے ہم بدخواب ہو گئے ہیں جو دو چار شب سے ہم کب کامیابِ بوسہ ہوئے اس کے لب سے ہم شرمندہ ہی رہے دلِ مطلب طلب سے ہم یہ روز ڈھونڈ لائے ہے اک خوبرو نیا شاکی ہیں اپنے ہی دلِ آفت طلب سے ہم طرزِ خرامِ …

شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے (احمد حسین مائل)

شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئے کبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئے ہوئے وقت آخری مہرباں دم اولیں جو خفا ہوئے وہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے یہ الٰہی کیسا غضب ہوا وہ سمائے مجھ …

وہ تو نہ مِل سکے ہمیں رُسوائیاں مِلیں (حکیم ناصر)

وہ تو نہ مِل سکے ہمیں رُسوائیاں مِلیں لیکن ہمارے عِشق کو رعنائیاں مِلیں آنکھوں میں اُن کی ڈُوب کے دیکھا ہے بارہا جِن کی تھی آرزُو نہ وہ گہرائیاں مِلیں آئینہ رکھ کے سامنے آواز دی اُسے اُس کے بغیر جب مُجھے تنہائیاں مِلیں آئے تھے وہ نظر مُجھے پُھولوں کے آس پاس دیکھا …

جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں (تعشق لکھنوی)

جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں بہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیں ہیں جلو میں صفت ابر بہاری آنکھیں اٹھنے دیتی ہیں کہاں گرد سواری آنکھیں کیوں اسیران قفس کی طرف آنا چھوڑا پھیر لیں تو نے بھی اے باد بہاری آنکھیں سامنے آ گئی گلگشت میں نرگس شاید پلکوں سے چیں بہ …

اپنے آنچل میں چھپا کر مرے آنسو لے جا (اظہر عنایتی)

اپنے آنچل میں چھپا کر مرے آنسو لے جا یاد رکھنے کو ملاقات کے جگنو لے جا میں جسے ڈھونڈنے نکلا تھا اسے پا نہ سکا اب جدھر جی ترا چاہے مجھے خوشبو لے جا آ ذرا دیر کو، اور مجھ سے ملاقات کے بعد سوچنے کے لیے روشن کوئی پہلو لے جا حادثے اونچی …

تم کو وحشت تو سکھا دی ہے، گزارے لائق (عمیر نجمی)

تم کو وحشت تو سکھا دی ہے، گزارے لائق اور کوئی حکم؟ کوئی کام، ہمارے لائق؟ معذرت! میں تو کسی اور کے مصرف میں ہوں ڈھونڈ دیتا ہوں مگر کوئی تمہارے لائق ایک دو زخموں کی گہرائی اور آنکھوں کے کھنڈر اور کچھ خاص نہیں مجھ میں نظارے لائق گھونسلہ، چھاؤں، ہرا رنگ، ثمر، کچھ …

مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا (رام پرساد بسمل)

مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا دل کی بربادی کے بعد ان کا پیام آیا تو کیا مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں پھر میری ناکامیوں کے …