بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں (داغ دہلوی)

بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں کہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیں زمیں پر پاؤں نفرت سے نہیں رکھتے  پری پیکر یہ گویا اس مکاں کی دوسری منزل میں رہتے ہیں ہزاروں حسرتیں وہ ہیں کہ روکے سے نہیں رکتیں بہت ارمان ایسے ہیں کہ دل …

جگر کی آگ بجھے جس سے جلد وہ شے لا (انشا اللہ خاں انشا)

جگر کی آگ بجھے جس سے جلد وہ شے لا لگا کے برف میں ساقی صراحئی مے لا قدم کو ہاتھ لگاتا ہوں ، اُٹھ کہیں ، گھر چل خدا کے واسطے اتنے تو پاؤں مت پھیلا نکل کے وادئی وحشت سے دیکھ اے مجنوں ! کہ زور دھوم سے آتا ہے ناقئہ لیلیٰ گرا …

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں (انشااللہ خاں انشا)

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں کہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں حضرتِ دل تو بگاڑ آئے ہیں اس سے لیکن اب بھی ہم چاہیں تو پھر بات بنا سکتے ہیں شیخی اتنی نہ کر اے شیخ ! کہ رندانِ جہاں انگلیوں پر تجھے چاہیں تو نچا سکتے ہیں تو گروہِ …

کمر باندھے ہوئے چلنے پہ یاں سب یار بیٹھے ہیں (انشااللہ خان انشا)

کمر باندھے ہوئے چلنے پہ یاں سب یار بیٹھے ہیں بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں تصور عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی پر غرض کچھ اور دُھن میں اس گھڑی مے خوار بیٹھے ہیں نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی تجھے اٹھکیلیاں سُوجھی ہیں ہم بے …

وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں (فیض احمد فیض)

وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں وہ اِک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں تم آرہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں یہی کنارِ فلک کا سیہ تریں گوشہ یہی ہے مطلعِ ماہِ تمام کہتے ہیں پیو کہ مفت لگا دی ہے خونِ …

سنتے ہیں کہ مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے (رانا اکبر آبادی)

سنتے ہیں کہ مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے اک روز تمہیں مانگ کے دیکھیں گے خدا سے جب کچھ نہ ملا ہاتھ دعاؤں کو اٹھا کر پھر ہاتھ اٹھانے ہی پڑے ہم کو دعا سے دنیا بھی ملی ہے غمِ دنیا بھی ملا ہے وہ کیوں نہیں ملتا جسے مانگا تھا خدا سے …

تو کہیں بھی رہے سر پر تیرے الزام تو ہے (صابر ظفر)

تو کہیں بھی رہے سر پر تیرے الزام تو ہے تیرے ہاتھوں کی لکیروں میں میرا نام تو ہے مجھ کو تو اپنا بنا یا نہ بنا تیری خوشی تیری محفل میں میرے نام کوئی شام تو ہے دیکھ کر مجھ کو لوگ نام تیرا لیتے ہیں اس پہ میں خوش ہوں محبت کا یہ …

ہے مئے گُل گوں کی تیرے یہ گلابی ہاتھ میں (غلام ہمدانی مصحفی)

ہے مئے گُل گوں کی تیرے یہ گلابی ہاتھ میں یا دلِ پُر خوں ہے میرا، اے شرابی! ہاتھ میں دیکھنے کو جلوہ تیرے حسن کا شب آسماں ماہ سے رکھتا ہے روشن ماہتابی ہاتھ میں جو نکل آیا وہ گُل گھر سے بوقتِ نیمروز مہرِ تاباں لے کے دوڑا آفتابی ہاتھ میں آستیں اس …

معشوق ہوں یا عاشقِ معشوق نما ہوں(غلام ہمدانی مصحفی)

معشوق ہوں یا عاشقِ معشوق نما ہوں معلوم نہیں مجکو ۔ کہ میں کون ہوں- کیا ہوں ہوں شاہدِ تننزیہہ کے رخسارہ کا پردہ یا خود ہی میں شاہد ہوں ۔ کہ پردہ میں چھپا ہوں ہستی کو مری ہستیِ عالم نہ سمجھنا ہوں ہست – مگر ہستیِ عالم سے جدا ہوں انداز ہیں سب …

کیا دید میں عالم کی کروں جلوہ گری کا (غلام ہمدانی مصحفی)

کیا دید میں عالم کی کروں جلوہ گری کا یاں عمر کو وقفہ ہے چراغِ سحری کا تربت پہ مِری برگِ گلِ تازہ چڑھائے احسان ہے مجھ پہ یہ نسیمِ سحری کا جو دیکھے ہے نقشے کو تِرے، وہ یہ کہے ہے سارا بدن انسان کا ، چہرہ ہے پری کا ہے جی میں کہ …