بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں (داغ دہلوی)
بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیں کہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیں زمیں پر پاؤں نفرت سے نہیں رکھتے پری پیکر یہ گویا اس مکاں کی دوسری منزل میں رہتے ہیں ہزاروں حسرتیں وہ ہیں کہ روکے سے نہیں رکتیں بہت ارمان ایسے ہیں کہ دل …