وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے (جمال احسانی)

وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے گزر گئے جو موسم گزرنے والے تھے نئی رتوں میں دکھوں کے بھی سسلسلے ہیں نئے وہ زخم تازہ ہوئے جو بھرنے والے تھے یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی کہ اب تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے ہزار مجھ سے وہ پیمانِ …

کہنے کو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں (امجد اسلام امجد)

کہنے کو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں امجد مگر وہ شخص مجھے بھولتا نہیں ڈرتا ہوں آنکھ کھولوں تو منظر بدل نہ جائے میں جاگ تو رہا ہوں مگر جاگتا نہیں آشفتگی سے اس کی اسے بے وفا نہ جان عادت کی بات اور ہے دل کا برا نہیں تنہا اداس چاند کو سمجھو …

وصل کی شب شام سے میں سو گیا (مومن خان مومن)

وصل کی شب شام سے میں سو گیا جاگنا ہجراں کا بلا ہو گیا ساتھ نہ چلنے کا بہانہ تو دیکھ آہ کے مری نعش پہ وہ رو گیا صبر نہیں شام فراق آ بھی چکو جس سے کہ بے زار تھے تم، سو گیا ہائے صنم ہائے صنم لب پہ کیوں خیر ہے مومن …

میں نے تم کو دل دیا، تم نے مجھے رسوا کیا (مومن خان مومن)

میں نے تم کو دل دیا، تم نے مجھے رسوا کیا میں نے تم سے کیا کیا اور تم نے مجھ سے کیا کیا کشتہ نازِ بتاں روزِ اول سے ہوں مجھے جان کھونے کے لیے اللہ نے پیدا کیا روز کہتا تھا کہیں مرتا نہیں ہم مر گئے اب تو خوش ہو بے وفا …

نہ کٹتی ہم سے شب جدائی کی (مومن خان مومن)

نہ کٹتی ہم سے شب جدائی کی کتنی ہی طاقت آزمائی کی رشک دشمن بہانہ تھا سچ ہے میں نے ہی تم سے بے وفائی کی کیوں برا کہتے ہو بھلا ناصح میں نے حضرت سے کیا برائی کی دام عاشق ہے دل وہی نہ ستم دل کو چھینا تو دل ربائی کی گر نہ …

قہر ہے، موت ہے، قضا ہے عشق (مومن خان مومن)

قہر ہے، موت ہے، قضا ہے عشق سچ تو یہ ہے بری بلا ہے عشق اثرِ غم ذرا بتا دینا وہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق آفتِ جاں ہے کوئی پردہ نشیں کہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق کس ملاحت سرشت کو چاہا تلخ کامی پہ بامزا ہے عشق ہم کو ترجیح …

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی (مومن خان مومن)

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی تھا بہت شوقِ وصل تو نے تو کمی اے حسنِ تاب کاہ نہ کی میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی محتسب یہ ستم غریبوں پر کبھی تنبیہ بادشاہ …

دکھاتے آئینہ ہو اور مجھ میں جان نہیں (مومن خان مومن)

دکھاتے آئینہ ہو اور مجھ میں جان نہیں کہو گے پھر بھی کہ میں تجھ سے بدگمان نہیں ترے فراق میں آرام ایک آن نہیں یہ ہم سمجھ چکے گر تو نہیں تو جان نہیں پوچھو کچھ مرا احوال میری جاں مجھ سے یہ دیکھ لو کہ مجھے طاقتِ بیاں نہیں یہ گل ہیں داغِ …

ان کے اک جانثار ہم بھی ہیں (داغ دہلوی)

ان کے اک جانثار ہم بھی ہیں ہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیں تم بھی بے چین ہم بھی ہیں بےچین تم بھی ہو بے قرار بے قرار ہم بھی ہیں اے فلک کہہ تو کیا ارادہ ہے عیش کے خواستگار ہم بھی ہیں شہر خالی کئے دکاں کیسی ایک ہی بادہ خوار ہم …

اب دل ہے مقام بے کسی کا (داغ دہلوی)

اب دل ہے مقام بے کسی کا یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا کس کس کو مزا ہے عاشقی کا تم نام تو لو بھلا کسی کا پھر دیکھتے عیش آدمی کا بنتا جو فلک میر خوشی کا گلشن میں ترے لبوں نے گویا رس چوس لیا کلی کلی کا لیتے نہیں بزم میں …