لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے (شکیل بدایونی)

لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے محبت آئینہ ہو چکی تھی وجودِ بزمِ جہاں سے پہلے ہر ایک عنوان دردِ فرقت ہے ابتدا شرحِ مدعا کی کوئی بتائے کہ یہ فسانہ سنائیں ان کو کہاں سے پہلے اٹھا جو مینا بدست ساقی رہی نہ کچھ تابِ ضبط باقی تمام مے …

مِری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں (شکیل بدایونی)

مِری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں انھیں اعتبارِ وفا تو ہے مجھے اعتبارِ ستم نہیں وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم …

مِری زندگی ہے ظالم تِرے غم سے آشکارا (شکیل بدایونی)

مِری زندگی ہے ظالم تِرے غم سے آشکارا تِرا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیارا وہ اگر برا نہ مانیں تو جہانِ رنگ و بو میں میں سکونِ دل کی خاطر کوئی ڈھونڈ لوں سہارا مجھے تجھ سے خاص نسبت، میں رہینِ موجِ دریا جنہیں زندگی تھی پیارے انہیں مِل گیا کنارہ میں …

ہوا سنکے تو خاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے (عبد الحمید عدم)

ہوا سنکے تو خاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے مِرے غم کی بہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے نہ چھیڑ اے ہم نشیں اب زیست کے مایوس نغموں کو کہ اب بربط کے تاروں کوبڑی تکلیف ہوتی ہے مجھے اے کثرتِ آلام ! بس اتنی شکایت ہے کہ میرے غم گساروں کو بڑی تکلیف ہوتی …

یہ عیش و طرب کے متوالے بیکار کی باتیں کرتے ہیں (شکیل بدایونی)

یہ عیش و طرب کے متوالے بیکار کی باتیں کرتے ہیں پائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیں ناحق ہے ہوس کے بندوں کو نظارۃ فطرت کا دعویٰ آنکھوں میں نہیں ہے بےتابی دیدار کی باتیں کرتے ہیں کہتے ہیں انہی کو دشمنِ دل اور نام انہی کا ناصح ہے وہ …

سب نے ملائے ہاتھ یہاں تِیرگی کے ساتھ (وسیم بریلوی)

سب نے ملائے ہاتھ یہاں تِیرگی کے ساتھ کتنا بڑا مزاق ہوا روشنی کے ساتھ شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھ کیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ تیرا خیال ، تیری طلب تیری آرزو میں عمر بھر چلا ہوں کسی روشنی کے ساتھ دنیا مرے خلاف کھڑی کیسے ہو گئی میری تو …

ٹھوکریں کھا کر جو سنبھلتے ہیں (محسن بھوپالی)

ٹھوکریں کھا کر جو سنبھلتے ہیں نظمِ گیتی وہی بدلتے ہیں وہ ترستے ہیں روشنی کے لیے جن کے خوں سے چراغ جلتے ہیں بے سبب مسکرانا کیا معنی بے سبب اشک بھی نکلتے ہیں تہمت گم رہی ہے بچنے کو راہبر راستے بدلتے ہیں گھیر لیتی ہے گردشِ دوراں گیسوؤں سے جو بچ نکلتے …

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا (محسن بھوپالی)

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا دائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا عمرِ مصروف ! کوئی لمحئہ فرصت ہو عطا میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر دل وہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا فن کے کچھ اور بھی ہوتے ہیں تقاضے …

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں (محسن بھوپالی)

نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں بڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں جو دل میں عکس ہے  آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گا دل آئنہ ہے مگر دل کا آئنہ آنکھیں وہ اک ستارہ تھا جانے کہاں گرا ہو گا خلا میں ڈھونڈرہی ہیں نہ جانے کیا آنکھیں غمِ حیات نے فرصت …

اداس شام دل سوگوار تنہائی (عدیم ہاشمی)

اداس شام دل سوگوار تنہائی ہر ایک سمت ہوئی بے کنار تنہائی بچھڑ گئے ہیں سبھی برگ و بار پیڑون سے سسک رہی ہے لبِ شاخسار تنہائی تمہارے نقشِ قدم پر جبیں رکھ رکھ کر رہی ہے دیر تلک اشکبار تنہائی پکارتا ہے یہ کس لے میں ڈوبتا ہوا دل جو لوٹ آتی ہے بار …