اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)
اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم قسطوں میں خود کشی کا مزا ہم سے پوچھیے آغازِ عاشقی کا مزا آپ جانیے انجامِ عاشقی کا مزا ہم سے پوچھیے جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی …