اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا (شاد عارفی)
اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا تو میں مرنے سے درگزرا مِرے کس کام آئے گا عطا کی جب کہ خود پیرِ مغاں نے پی بھی لے زاہد یہ کیسا سوچنا ہے تجھ پہ کیوں الزام آئے گا شبِ ہجراں کی سختی ہو تو لیکن یہ کیا کم ہے کہ لب …