بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا (جون ایلیا)
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے کہو …
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے کہو …
اس لمحے تشنہ لب ریت بھی پانی ہوتی ہے آندھی چلے تو صحرا میں طغیانی ہوتی ہے نثر میں جو کچھ کہہ نہیں سکتا شعر میں کہتا ہوں اس مشکل میں بھی مجھ کو آسانی ہوتی ہے جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے عشق …
تیری رحمتوں کے دیار میں تیرے بادلوں کو پتہ نہیں ابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اک الاؤ جلا نہیں میری بزمِ دل تو اجڑ چکی مرا فرشِ جاں تو سمٹ چکا سبھی جا چکے مرے ہم نشیں مگر ایک شخص گیا نہیں درو بام سب نے سجا لئے سبھی روشنی میں نہا لئے مِری …
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے مجھے یاد کرنے سے یہ دعا تھا نکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی بہت دیر کی مہرباں آتے آتے ابھی سِن ہی کیا ہے جو بیباکیاں ہوں انہیں آئیں گی شوخیاں آتے آتے …
اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہا کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں ضبط کم بخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہے کہ اسے حال سناؤں تو …
اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے تیغ بے آب ہے نے بازوئے قاتل کمزور کچھ گراں جانی ہے کچھ موت نے فرصت دی ہے اس قدر کس کے لیے یہ جنگ و جدل اے گردوں نہ نشاں مجھ کودیا ہے نہ تو …
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے سمندر کے سفر …
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق اے مرگِ ناگہاں! تیرا آنا بہت ہوا ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے …
حسن کو بے حجاب ہونا تھا شوق کو کامیاب ہونا تھا ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ خون دل بھی شراب ہونا تھا تیرے جلووں میں گھر گیا آخر ذرے کو آفتاب ہونا تھا کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا رات تاروں کا ٹوٹنا بھی مجازؔ باعث اضطراب ہونا تھا
خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں کاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوں چاندنی کا سماں تھا اور ہم تم اب ستارے پلک پلک دیکھوں جانے تو کس کا ہم سفر ہوگا میں تجھے اپنی جاں تلک دیکھوں بند کیوں ذات میں رہوں اپنی موج بن جاؤں اور چھلک دیکھوں صبح میں دیر ہے تو …