Category «شاعری»

ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں (افتخار عارف)

ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں آنسو بھی تو ماؤں جیسی باتیں کرتے ہیں رستہ دیکھنے والی آنکھوں کے انہونے خواب پیاس میں بھی دریاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں پھر بی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں ایک ذرا سی جوت کے …

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا (فراق گورکھپوری)

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا حجاب اہلِ محبت کو آئے ہیں کیا کیا جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی چراغِ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا دو چار برقِ تجلی سے رہنے والوں نے فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا بقدرِ ذوقِ نظر دیدِ حسن کیا …

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں (فراق گورکھپوری)

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں فراق دوڑ گئی روح سی زمانے میں کہاں کا درد بھرا تھا فسانے میں وہ آستیں ہے کوئی جو لہو نہ دے نکلے وہ کوئی حسن ہے ججھکے جو رنگ لانے میں کبھی بیان دل خوں شدہ سے یہ …

رکی رکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی (فراق گورکھپوری)

رکی رکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیں بھی دیں گی نہ ساتھ مسافروں سے کہو اس کی راہگزر آئی فضا تبسمِ صبحِ بہار تھی لیکن پہنچ کے منزلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی کہیں زمان و مکاں میں ہے نام …

دہنِ یار یاد آتا ہے (فراق گورکھپوری)

دہنِ یار یاد آتا ہے غنچہ اِک مسکرائے جاتا ہے رہ بھی جاتی ہے یاد دشمن کی دوست کو دوست بھول جاتا ہے  پیکرِ ناز کی دمک، جیسے کوئی دِھیمے سُروں میں گاتا ہے جو افسانہ وہ آنکھ کہتی ہے وہ کہیں ختم ہونے میں آتا ہے دلِ شاعر میں آمدِ اشعار جیسے تو سامنے …

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں (فراق گورکھپوری)

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں ہم ایسے میں تِری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں …

آج بھی قافلئہ عشق رواں ہے کہ جو تھا (فراق گورکھپوری)

آج بھی قافلئہ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگِ نشاں ہے  کہ جو تھا آج بھی کام محبت کے بہت نازک ہیں دل وہی کارگہِ شیشہ گراں ہے کہ جو تھا قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن آج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا …

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں (فراق گورکھپوری)

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور یہ بھی سچ  کہ  ہے تِرا حسن کچھ ایسا بھی نہیں دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں لیکن اس جلوہ گہِ ناز سے اٹھتا …

مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا (میکش اکبر آبادی)

مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا یہاں تو ہو رہی ہے داستان سے داستاں پیدا وہی ہے ایک مستی سی وہاں نظروں میں یاں دل میں وہی ہے ایک شورش سی وہاں پنہاں یاں پیدا تو اپنا کارواں لے چل نہ کر غم میرے ذروں کا انہیں ذروں سے ہو جائے …

یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے (میکش اکبر آبادی)

یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے کدھر چلے ہیں اندھیرے یہ ہاتھ پھیلائے خدا کرے کوئی شمعیں لئے چلا آئے دھڑک رہے ہیں مرے دل میں شام کے سائے کہاں وہ اور کہاں میری پر خطر راہیں مگر پھر بھی وہ مرے ساتھ دور تک آئے میں اپنے عہد میں شمعِ …