دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب اب تک (فیض احمد فیض)
فرشِ نومیدیِ دیدار دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب اب تک جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک ٹوکتی ہے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی اورکہیں یاد کسی دل زدہ …