Category «شاعری»

تُو ہے تو تِرے طالبِ دیدار بہت ہیں (منیر شکوہ آبادی)

تُو ہے تو تِرے طالبِ دیدار بہت ہیں یوسف ہے سلامت تو خریدار بہت ہیں پھر جائے خدائی تو بتوں سے نہ پھریں ہم پتھر میں بھی اللہ کے اسرار بہت ہیں وحدت کے طلب گاروں کو کثرت سے علاقہ میں ایک ہوں، تو ایک ہے، اغیار بہت ہیں باہر نہیں اس سلسہ سے اہلِ …

ان روزوں لطفِ حسن ہے آؤ تو بات ہے (منیر شکوہ آبادی)

ان روزوں لطفِ حسن ہے آؤ تو بات ہے دو دن کی چاندنی ہے پھر اندھیاری رات ہے اس لطفِ ظاہری کو سمجھتا ہوں خوب میں میری سنیں گے آپ یہ کہنے کی بات ہے اللہ کے بھی لفظ میں نقطہ کہیں نہیں حقا کہ لا شریک لہ تیری ذات ہے حوریں کہاں سے لائیں …

جس طرح ترکِ تعلق پہ ہے اصرار اب کے (مصطفیٰ زیدی)

شہناز جس طرح ترکِ تعلق پہ ہے اصرار اب کے ایسی شدت تو مرے عہدِ وفا میں بھی نہ تھی میں نے تو دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہر جس کی جرات صفِ تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی تو نے جس لہر کی صورت سے مجھے چاہا تھا ساز میں بھی نہ …

فن کار خود نہ تھی، مرے فن کی شریک تھی (مصطفیٰ زیدی)

شہناز فن کار خود نہ تھی، مرے فن کی شریک تھی وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی اترا تھا جس پہ بابِ حیا کا ورق ورق بستر کے ایک ایک شکن کی شریک تھی میں ایک اعتبار سے آتش پرست تھا وہ سارے زاویوں سے چمن کی شریک تھی وہ نازشِ ستارہ …

جنسِ محبت کیوں لائی ہو؟ (منصورہ احمد)

نظم یکے از نوادر جنسِ محبت کیوں لائی ہو؟ منڈی میں اس کا مندہ ہے نفرت ہی سب کا دھندا ہے بڑے بڑے بیوپاری آ کر اونچے اونچے دام لگا کر جتنی نفرت لے جاتے ہیں اُتنی نفرت دے جاتے ہیں منڈی کا رجحان تو دیکھو کتنی بھولی ہو، کہتی ہو اس مصروف بھری دنیا …

ہوا اس سے کہنا (محسن نقوی)

ہوا اس سے کہنا !ہوا صُبحدم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا !کہ ہم جاگتے ہیں ہوا اس سے کہنا کہ جو ہجر کی آگ پِیتی رُتوں کی طنابیں رگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کَس دیں انھیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند …

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں (محسن نقوی)

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں …

نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں (پروین شاکر)

نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں اس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں رنج سہنے کی مرے دل میں تب و تاب کہاں اور یہ بھی ہے کہ پہلے سے وہ اعصاب کہاں میں بھنور سے تو نکل آئی، اور اب سوچتی ہوں موجِ ساحل نے کیا ہے مجھے غرقاب …

میں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہوئی (پروین شاکر)

میں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہوئی ذرا سی دھوپ نکل آئی اور ماند ہوئی حدودِ رقص سے آگے نکل گئی تھی کبھی سو مورتی کی طرح عمر بھر کو راند ہوئی مہ تمام! ابھی چھت پہ کون آیا تھا کہ جس کے آگے تری روشنی بھی ماند ہوئی ٹکے کا چارہ نہ …

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے (پروین شاکر)

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے لوگ تھراگئے جس وقت منادی آئی آج پیغام نیا ظلِ الٰہی دیں گے جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں  گلوں کے رُخسار جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی لیں گے ہم وہ شب زاد کہ …