Category «شاعری»

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں (ابن انشاء)

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں تم انشا جی کا نام نہ لو، کیا انشا جی سودائی ہیں؟ ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بے چارا ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی،  انسان کو رکھتی ہیں دکھیارا ہاں بے کل بے کل …

مدتوں بعد آئی ہو تم (ادا جعفری)

!تم بھی مدتوں بعد آئی ہو تم اور تمہیں اتنی فرصت کہاں ان کہے حرف بھی سن سکو آرزو کی وہ تحریر بھی پڑھ سکو جو ابھی تک لکھی ہی نہیں جا سکی  اتنی مہلت کہاں میرے باغوں میں جو کھل نہ پائے ابھی ان شگوفوں کی باتیں کرو درد ہی بانٹ لو میرے کن …

اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں (اسرار الحق مجاز)

آوارہ شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں        اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب جیسے مُلا کا عمامہ ، جیسے بنیے کی کتاب …

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی (شبنم شکیل)

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی اب مایا جال سے نکلوں گی اور جوگنیا کہلاؤں گی تم نے اس پریم کی کٹیا کو پل بھر میں جلا کر راکھ کیا اب میری چتا تیار کرو میں ساتھ ستی ہو جاؤں گی یہ دنیا تو بھن ناری ہے ہنس ہنس …

یوں تو طے ہو بھی چکا ترکِ محبت کرنا (شبنم شکیل)

یوں تو طے ہو بھی چکا ترکِ محبت کرنا کتنا مشکل ہے مگر خود اسے رخصت کرنا اب کسی شہر میں بھی خوش نہیں رہنے دیتا وہ ترے شہر سے میرا کبھی ہجرت کرنا ابھی پایا بھی نہیں تھا کہ اسے کھو بھی دیا اپنی عادت ہے ہر اک کام میں عجلت کرنا سب کی …

سب وا ہیں دریچے تو ہوا کیوں نہیں آتی (شبنم شکیل)

سب وا ہیں دریچے تو ہوا کیوں نہیں آتی چپ کیوں ہے پرندوں کی صدا کیوں نہیں آتی گل کھلنے کا موسم ہے تو پھر کیوں نہیں کھلتے خاموش ہیں کیوں پیڑ ۔ صبا کیوں نہیں آتی بے خواب کواڑوں پہ ہوا دیتی ہے دستک سوئے ہوئے لوگوں کو جگا کیوں نہیں آتی سنتے ہیں …

روشنی آنے دو ، دیوار کو در ہونے دو (شبنم شکیل)

روشنی آنے دو ، دیوار کو در ہونے دو سحرِ شب ٹوٹنے دو ، نورِ سحر ہونے دو ایک پھر پہ نہ ضائع کرو برسات اپنی صدفِ چشم میں اشکوں کو گہر ہونے دو دل ہو دریا تو تموج اسے راس آتا ہے روز پیدا مرے دریا میں بھنور ہونے دو کبھی پندار نے دی …

کسی شاعر سے کبھی خواب نہ چھینو اس کے (شبنم شکیل)

خواب کسی شاعر سے کبھی خواب نہ چھینو اس کے خواب چھینو گے تو بے موت ہی مر جائے گا اور کچھ ہاتھ تمہارے بھی نہیں آئے گا اس کی فطرت میں ہے بس خواب نگر میں رہنا جس کی پونجی ہو فقط خواب اسے کیا کہنا خواب کی دھن میں وہ متوالا مگر جب …

جو بیتی ہے وہ دہرانے میں کچھ وقت لگے گا (شبنم شکیل)

جو بیتی ہے وہ دہرانے میں کچھ وقت لگے گا اس غم کو اک یاد بنانے میں کچھ وقت لگے گا نیند تو آنے کو تھی پر دل پچھلے قصے لے بیٹھا اب خود کو بے وقت سلانے میں کچھ وقت لگے گا اس کا ساتھ اب تنہائی کو کرتا ہے اور زیادہ پر یہ …