اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی (اختر شیرانی)
اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی لالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئی کوچئہ حسن چھٹا تو ہوئے رسوائے شراب اپنی قسمت میں جو لکھی تھی وہ خواری نہ گئی ان کی مستانہ نگاہوں کا نہیں کوئی قصور ناصحو زندگی خود ہم سے سنواری نہ گئی چشمِ محزوں پہ نہ لہرائی وہ …