Category «شاعری»

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی (اختر شیرانی)

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی لالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئی کوچئہ حسن چھٹا تو ہوئے رسوائے شراب اپنی قسمت میں جو لکھی تھی وہ خواری نہ گئی ان کی مستانہ نگاہوں کا نہیں کوئی قصور ناصحو زندگی خود ہم سے سنواری نہ گئی چشمِ محزوں پہ نہ لہرائی وہ …

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے (شکیب جلالی)

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پسِ دیوار گرے ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی آنکھ جھپکی بھی نہیں ، ہاتھ سے پتوار گرے مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں جس طرح سایئہ دیوار پہ دیوار گرے تیرگی چھؤڑ …

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں (شعیب بن عزیز)

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں اب تو اس کی آنکھوں کے میکدے میسر ہیں پھر سکون ڈھونڈوگے ساغروں میں، جاموں میں دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب میں ترے فقیروں میں ، میں ترے غلاموں میں جس طرح شعیب اس …

اس سمت چلے ہو تو اتنا اسے کہنا (سرور مجاز)

اس سمت چلے ہو تو اتنا اسے کہنا اب کوئی نہیں حرفِ تمنا، اسے کہنا اس نے ہی کہا تھا تو یقیں میں نے کیا تھا امید پہ قائم ہے یہ دنیا، اسے کہنا دنیا تو کسی حال میں جینے نہیں دیتی چاہت نہیں ہوتی کبھی رسوا، اسے کہنا زرخیز زمینیں کبھی بنجر نہیں ہوتیں …

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں (شاد)

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں ہوں اس کوچہ کے ہر ذرہ سے واقف اِدھر سے عمر بھر آیا گیا ہوں دلِ مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم! میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں کجا میں …

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا (فہمیدہ ریاض)

لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا چھو کے میرا بدن اپنے بچے کے دِل کا دھڑکنا سنو ناف کے اس طرف اس کی جنبش کو محسوس کرتے ہو تم؟ بس یہیں چھوڑ دو تھوڑی دیر اور اس ہاتھ کو میرے ٹھندے بدن پر یہیں چھوڑ دو میرے بے کل نفس کو …

اک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا (پروین شاکر)

اک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا کس سے پوچھوں ترے آقا کا پتہ اے رہوار یہ علم وہ ہے نہ اب تک کسی شانے سے اٹھا حلقئہ خواب کو ہی گرد گلو کس ڈالا دستِ قاتل کا بھی احساں نہ دوانے سے اٹھا پھر …

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا (پروین شاکر)

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہین دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں میں …

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا (پروین شاکر)

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شبِ ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے …

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا (پروین شاکر)

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا کسی بھی رُت میں ہرا ہو یہ وہ درخت نہ تھا وہ خواب دیکھا تھا شہزادیوں نے پچھلے پہر پھر اس کے بعد مقدر میں تاج و تخت نہ تھا ذرا سے جبر سے میں بھی  تو ٹوٹ سکتی تھی مری طرح سے طبیعت کا وہ …