Category «شاعری»

دل عشق میں بے پایاں، سودا ہو تو ایسا ہو (ابن انشاء)

دل عشق میں بے پایاں،  سودا ہو تو ایسا ہو دریا ہو تو ایسا ہو صحرا ہو تو ایسا ہو اے قیسِ جنوں پیشہ، انشا کو کبھی دیکھ؟ا وحشی ہو تو ایسا ہو رسوا ہو تو ایسا ہو دریا بہ حباب اندر ، طوفاں بہ سحاب اندر محشر بہ حجاب اندر ، ہونا ہو ایسا …

دل درد کی شدت سے خُوں گشتہ و سی پارہ (ابن انشاء)

دروازہ کھلا رکھنا دل درد کی شدت سے خُوں گشتہ و سی پارہ اِس شہر میں پھرتا ہے  اِک وحشی و آوارہ شاعر ہے کہ عاشق ہے جوگی ہے کہ بنجارہ دروازہ کھلا رکھنا سینے سے گھٹا اُٹھے آنکھوں سے جھڑی برسے پھاگن کا نہیں بادل جو چار گھڑی برسے برکھا ہے یہ بھادوں کی …

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا (ابن انشاء)

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھاکانا کیا اس دل کے دریدہ دامن میں دیکھو تو سہی سوچو تو سہی جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر …

اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے​ (ابن انشاء)

اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے​ اس روپ کی رانی کی تصویر بنانی ہے​ ​ ہم اہل محبت کی وحشت کا وہ درماں ہے​ ہم اہل محبت کو آزار جوانی ہے​ ​ ہاں چاند کے داغوں کو سینے میں بساتے ہیں​ دنیا کہے دیوانا ۔۔۔ دنیا دیوانی ہے​ ​ اک بات …

آگ کے درمیان سے نکلا (شکیب جلالی)

آگ کے درمیان سے نکلا میں بھی کس امتحان سے نکلا پھر ہوا سے سلگ اٹھے پتے پھر دھواں گلستان سے نکلا جب بھی نکلا ستارۂ امید کہر کے درمیان سے نکلا چاندنی جھانکتی ہے گلیوں میں کوئی سایہ مکان سے نکلا ایک شعلہ پھر اک دھویں کی لکیر اور کیا خاکدان سے نکلا چاند …

اک بار کہو تم میری ہو (ابنِ انشاء)

اِک بار کہو تم میری ہو ہم گھوم چکے بستی بن میں اک آس کی پھانس لئے من میں کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو کوئی دیپک ہو کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اِک بار کہو تم میری ہو             جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھِلائے ہوں جب چندا رُوپ …

اِس کو نام جنوں کا دے لو، پیار کہو کہ دُلار کہو (ابنِ انشاء)

اِس کو نام جنوں کا دے لو، پیار کہو کہ دُلار کہو  ایسا اور کسی کا دیکھا دل کا کاروبار؟ کہو بستی میں دیوانہ سمجھو ، دشت میں ہم کو خوار کہو اُن سے ایک نہ ایک بہانے ہونا تھا دو چار کہو تم کیا سود و زیاں کی جانو ، تم جو اسے ایثار …

جب بھی گُلشن پہ گَھٹا چھائی ہے (شکیب جلالی)

جب بھی گُلشن پہ گَھٹا چھائی ہے چشمِ مَے گُوں، تِری یاد آئی ہے کِس کے جَلووں کو نظر میں لاؤں حُسن خوُد میرا تماشائی ہے آپ کا ذکر نہیں تھا لیکن بات پر بات نکل آئی ہے زندگی بخش عزائم کی قسم ناؤ ساحل کو بہا لائی ہے مُجھ کو دُنیا کی مُحبّت پہ …

لائی پھر اک لغزشِ مستانہ تیرے شہر میں( کیفی اعظمی)

لائی پھر اک لغزشِ مستانہ تیرے شہر میں پھر بنیں گی مسجدیں مے خانہ تیرے شہر میں آج پھر ٹوٹیں گی تیرے گھر کی نازک کھڑکیاں آج پھر دیکھا گیا دیوانہ تیرے شہر میں جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تیرے شہر میں شاہ نامے لکھے ہیں …

ہر اک نے کہا کیوں تجھے ارام نہ آیا (مصطفیٰ زیدی)

ہر اک نے کہا کیوں تجھے ارام نہ آیا سُنتے رہے ہم ، لب پہ تِرا نام نہ آیا دیوانے کو تکتی ہیں تِرے شہر کی گلیاں نکلا تو اِدھر لوٹ کے بدنام نہ آیا مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرے یہ دیکھ کہ تجھ پہ کوئی الزام نہ آیا کیا …