کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا (مصطفیٰ زیدی)
کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا دیکھا تو ہر جمال اِسی آئینے میں تھا قُلزم نے بڑھ کے چوم لیے پھول سے قدم دریائے رنگ و نور ابھی راستے میں تھا اِک رشتئہ وفا تھا سو کس ناشناس سے اِک درد حرزِ جاں تھا سو کس کے صلے میں تھا صہبائے تند …