Category «شاعری»

پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم (افتخار عارف

قصہ ایک بسنت کا پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا اور کس کی ڈور ہلکی تھی اُنھیں اس سے غرض کیا پیچ پڑتے وقت کن ہاتھوں میں لرزہ آگیا تھا اور کس کی کھینچ اچھی تھی؟ ہوا کس کی طرف تھی، کونسی پالی کی بیری تھی؟ پتنگیں لُوٹنے …

گلدانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نے(افتخار عارف)

سوغات گلدانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نے رات اپنی آغوش میں لے کر اتنا بھینچا سارے رنگ اور ساری خوشبو انگ انگ میں بسی ہوئی ہے ساری دُنیا نئی ہوئی ہے پر مجھ کو اُن سب رنگوں اور خوشبوؤ ں سے ڈر لگتا ہے جن کا مقدر تنہائی ہو یا پھر ایسی رُسوائی …

جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتےہیں (افتخار عارف)

تجاہلِ عارفانہ جوہری کو کیا معلوم کس طرح کی مٹی میں کیسے پھول ہوتےہیں کس طرح کے پھولوں میں کیسی باس ہوتی ہے جوہری کو کیا معلوم جوہری تو ساری عمرپتھروں میں رہتا ہے زرگروں میں رہتا ہے جوہری کو کیا معلوم یہ تو بس وُہی جانے جس نے اپنی مٹی سے اپنا ایک اک …

میرے آباء و اجداد نے حرمت ِآدمی کے لیے (افتخار عارف)

ایک سوال میرے آباء و اجداد نے حرمت ِآدمی کے لیے تا ابد روشنی کے لیے کلمۂ حق کہا مقتلوں، قید خانوں، صلیبوں میں بہتا لہو ان کے ہونے کا اعلان کرتا رہا وہ لہو حرمت آدمی کی ضمانت بنا تا ابد روشنی کی علامت بنا اور میں پا برہنہ سر ِکوچۂ احتیاج رزق کی …

عجب گھڑی تھی (افتخار عارف)

بدشگونی عجب گھڑی تھی کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں اُلجھے آنسو بلارہے تھے مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا نظر میں اک اور ہی جہاں تھا نئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوں نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ …

تھکے ہوئے آسماں کے مضمحل ستارے (افتخار عارف)

سراب تھکے ہوئے آسماں کے مضمحل ستارے جو ان راتوں کے ہم نصیبوں سے کہہ رہے ہیں وفور و وارفتگی کے صحرا میں نور کی ندیوں کا دیوانہ پن بھی کب تک لہو کی یہ انجمن بھی کب تک بدن کی بیساکھیوں سے تنہائیوں کے یہ سنگلاخ رستے گزر سکیں تو گزار لو پھر بدن …

دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے (افتخار عارف)

دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے درود پڑھتے ہی یہ کیسی روشنی ہوئی ہے میں بس یونہی تو نہیں آگیا ہوں محفل میں کہیں سے اذن ملا ہے تو حاضری ہوئی ہے جہانِ کن سے ادھر کیا تھا، کون جانتا ہے مگر وہ نور کہ جس سے یہ زندگی ہوئی ہے ہزار …

در پردہ جفاؤں کو اگر جان گئے ہم (سیف الدین سیف)

در پردہ جفاؤں کو اگر جان گئے ہم تم یہ نہ سمجھنا کہ برا مان  گئے ہم اب اور ہی عالم ہے جہاں کا دلِ ناداں اب ہوش میں آئے تو مری جان گئے ہم پلکوں پہ لرزتے ہوئے تارے سے یہ آنسو اے حسنِ پشیماں ترے قربان گئے ہم ہم اور ترے حسنِ تغافل …

جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتا (عیش دہلوی)

جس دل میں تری زلف کا سودا نہیں ہوتا وہ دل نہیں ہوتا نہیں ہوتا نہیں ہوتا عاشق جسے کہتے ہیں وہ پیدا نہیں ہوتا اور ہوئے بھی بالفرض تو مجھ سا نہیں ہوتا مانا کہ ستم کرتے ہیں معشوق مگر آپ جو مجھ پہ روا رکھتے ہیں ایسا نہیں ہوتا جو مست ہے ساقی …

جب بھی گُلشن پہ گَھٹا چھائی ہے (شکیب جلالی)

جب بھی گُلشن پہ گَھٹا چھائی ہے چشمِ مَے گُوں، تِری یاد آئی ہے کِس کے جَلووں کو نظر میں لاؤں حُسن خوُد میرا تماشائی ہے آپ کا ذکر نہیں تھا لیکن بات پر بات نکل آئی ہے زندگی بخش عزائم کی قسم ناؤ ساحل کو بہا لائی ہے   مُجھ کو دُنیا کی مُحبّت …