Category «شاعری»

وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو (پروین شاکر)

وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو خوش نہ تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی اس کے چہرے پہ لکھا تھا ، لوگو اس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں رات بھر وہ بھی نہ سویا، لوگو اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی تھا کسی وقت میں اپنا، لوگو دوست تو خیر کوئی کس …

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں (پروین شاکر)

بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہو گی وہ آئے آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں وہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی …

سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک (پروین شاکر)

ایکسٹیسی سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنک سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن سلوٹیں ملبوس پر، آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا گرمئی رُخسار سے دہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا نرم زلفوں سے ملائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑ سرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے …

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں (حفیظ جالندھری)

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں اس درد دوستی کی دوا ہو گیا ہو میں قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں نا آشنا ہیں رتبئہ دیوانگی سے دوست کم بخت جانتے نہیں، کیا ہو گیا ہوں میں ہنسنے کا …

جوانی کے ترانے گارہا ہوں (حفیظ جالندھری)

جوانی کے ترانے گارہا ہوں دبی چنگاریاں سلگا رہا ہوں مِری بزمِ وفا سے جانے والو ٹھہر جاؤ کہ میں بھی آرہا ہوں بتوں کو قول دیتا ہوں وفا کا قسم اپنے خدا کی کھا رہا ہوں ہوئی جاتی ہے کیوں بے تاب منزل مسلسل چل رہا ہوں آرہا ہوں نئے کعبے کی بنیادوں سے …

مستوں پہ انگلیاں نہ اٹھاؤ بہار میں (حفیظ جالندھری)

مستوں پہ انگلیاں نہ اٹھاؤ بہار میں دیکھو تو، ہوش بھی ہے کسی ہوشیار میں کچھ محتسب کو خوف ہے کچھ شیخ کا لحاظ پیتا ہوں چھپ کے دامنِ ابرِ بہار میں وہ سامنے دھری ہے صراحی بھری ہوئی ددونوں جہاں ہیں آج مرے اختیار میں جھوٹی تسلیوں سے نہ بہلاؤ، جاؤ جاؤ جاؤ، کہ …

کوئی دوا نہ دے سکے، مشورۃ دعا دیا (حفیظ جالندھری)

کوئی دوا نہ دے سکے، مشورۃ دعا دیا چارہ گروں  نے اور بھی دل کا درد بڑھا دیا حسنِ نظر کی آبرو صنعتِ برہمن سے ہے جس کو صنم بنا لیا، اس کو خدا بنا دیا ذوقِ نگاہ کے سوا، شوقؐ گناہ کے سوا مجھ کو خدا سے کیا ملا، مجھ کو بتوں نے کیا …

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا(حفیظ جالندھری)

                    او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا                   اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا میری چپ رہنے کی عادت جس کارن بدنام ہوئی اب وہ حکایت عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا یہ دکھ درد کی برکھا بندے دین ہے تیرے داتا کی شکرِ نعمت …