کیوں ہنسی تو اے اجل ! فانی اگر سمجھا مجھے (سیماب اکبر ابادی)
کیوں ہنسی تو اے اجل ! فانی اگر سمجھا مجھے ایک دن سب کو فنا ہے ، کیا تجھے اور کیا مجھے غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا ایک دل دے کے خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے ہے حصولِ آرزو کا راز ، ترکِ آرزو میں نے دُنیا چھوڑ دی تو مِل …