لایا ہے دل پر کتنی خرابی (حسرت موہانی)
لایا ہے دل پر کتنی خرابی اے یار تیرا حسنِ شرابی پیراہن اس کا ہے سادہ رنگیں یا عکسِ مے سے شیشہ گلابی پھرتی ہے اب تک دل کی نظر میں کیفیت ان کی وہ نیم شرابی وہ روئے زیبا ہے جانِ خوبی ہیں وصف جس کے سارے کتابی اس قیدِ غم پر قربان حسرت …