کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے (حفیظ جالندھری)
کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے آغازِ مصیبت ہوتا ہے اپنے ہی دل کی شامت سے آنکھوں میں پھول کھلاتا ہے تلووں میں کانٹے چبھوتا ہے احباب کا شکوہ کیا کیجئے خود ظاہر و باطن …