سوزِ حیات مانگ، غمِ جاودانہ مانگ (قابل اجمیری)

سوزِ حیات مانگ، غمِ جاودانہ مانگ اس جانِ مدعا سے مگر مدعا نہ مانگ آوازِ بازگشت بھی مشکل سے آئے گی غربت کو شرمسار نہ کر ہمنوا نہ مانگ خونِ جگر سے نقشِ تمنا بنائے جا اب زندگی سے فرصتِ ترکِ وفا نہ مانگ مے خانہ اک سراب، صنم خانہ اک طلسم کچھ ان سے …

جنونِ بے سروساماں کی بات کون کرے (قابل اجمیری)

جنونِ بے سروساماں کی بات کون کرے خزاں نہ ہو تو بیاباں کی بات کون کرے گلاب و نرگس و ریحاں کی بات کون کرے جو تم ملو تو گلستاں کی بات کون کرے مرے جنوں کا تماشہ تو سب نے دیکھ لیا تری نگاہِ پشیماں کی بات کون کرے ہمیں تو رونقِ زنداں بنا …

سکوں بھی خواب ہوا نیند بھی ہے کم کم پھر (پروین شاکر)

سکوں بھی خواب ہوا نیند بھی ہے کم کم پھر قریب آنے لگا ہے دوریوں کا موسم پھر بنا رہی ہے تری یاد مجھ کو سلک گُہر پرو گئی مری پلکوں میں  آج شبنم پھر وہ نرم لہجے میں کچھ کہہ رہا ہے پھر مجھ سے چھڑا ہے پیار کے کومل سروں میں مدھم پھر …

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں (گلزار)

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں ایک پرانا خط کھولا انجانے میں شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں درد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں دل …

یہ جگہ اہلِ جنوں اب نہیں رہنے والی (شہریار)

یہ جگہ اہلِ جنوں اب نہیں رہنے والی فرصتِ عش میسر کہاں پہلے والی کوئی دریا ہو کہیں جو مجھے سیراب کرے ایک حسرت ہے جو پوری نہیں ہونے والی وقت کوشش کرے میں چاہوں مگر یاد تری دھندلی ہو سکتی ہے دل سے نہیں مٹنے والی اب مرے خوابوں کی باری ہے یہی لگتا …

کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا (شہریار)

کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا غیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیا نکلا تھا میں صدائے جرس کی تلاش میں دھوکے سے اس سکوت کے صحرا میں آ گیا کیوں آج اس کا ذکر مجھے خوش نہ کر سکا کیوں آج اس کا نام مرا دل دکھا گیا میں …

یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتے (شہریار)

یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتے اک پل بھی اگر بھول کے ہم سو گئے ہوتے اے شہر ترا نام و نشاں بھی نہیں ہوتا جو حادثے ہونے تھے اگر ہو گئے ہوتے ہر بار پلٹے ہوئے گھر کو یہی سوچا اے کاش کسی لمبے سفر کو گئے ہوتے ہم خوش ہیں ہمیں …

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا (شہریار)

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا دن ڈھلتے ہی دن ڈوبنے لگتا ہے ہمارا چہروں کے سمندر سے گزرتے رہے پھر بھی اک عکس کو آئینہ ترستا ہے ہمارا ان لوگوں سے کیا کہیے کہ کیا بیت رہی ہے احوال مگر تو توسمجھتا ہے ہمارا ہر موڑ پہ پڑتا ہے ہمیں …

کہنے کو تو ہر بات کہی تیرے مقابل (شہریار)

کہنے کو تو ہر بات کہی تیرے مقابل لیکن وہ فسانہ جو مرے دل پہ رقم ہے محرومی کا احساس مجھے کس لئے ہوتا حاصل ہے جو مجھ کو کہاں دنیا کو بہم ہے یا تجھ سے بچھڑنے کا نہیں حوصلہ مجھ میں یا تیرے تغافل میں بھی اندازِ کرم ہے تھوڑی سی جگہ مجھ …

کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں (شہریار)

کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں سمندر کے کناروں پہ ریت کے گھر ہیں نہ کوئی کھڑکی نہ دروازہ واپسی کے لیے مکانِ خواب میں جانے کے سینکڑوں در ہیں گلاب ٹہنی سے ٹوٹا زمیں پر نہ گرا کرشمے تیز ہوا کے سمجھ سے باہر ہیں کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا سراب سب …