میں بھول جاؤں تمہیں (جاوید اختر)
میں بھول جاؤں تمہیں اب یہی مناسب ہے مگر بھلانا بھی چاہوں تو کس طرح بھولوں کہ تم تو پھر بھی حقیقت ہو کوئی خواب نہیں یہاں تو دل کا یہ عالم ہے کہ کیا کہوں !کمبخت بھلا سکا نہ یہ وہ سلسلہ جو تھا ہی نہیں وہ اک خیال جو آواز تک گیا ہی …