میں بھول جاؤں تمہیں (جاوید اختر)

میں بھول جاؤں تمہیں اب یہی مناسب ہے مگر بھلانا بھی چاہوں تو کس طرح بھولوں کہ تم تو پھر بھی حقیقت ہو کوئی خواب نہیں یہاں تو دل کا یہ عالم ہے کہ کیا کہوں !کمبخت بھلا سکا نہ یہ وہ سلسلہ جو تھا ہی نہیں وہ اک خیال جو آواز تک گیا ہی …

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی (جاوید اختر)

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی قدم رکھا کہ منزل راستہ تھی کبھی جو خواب تھا، وہ پا لیا ہے مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جسے چھو لوں میں وہ ہو جائے سونا تجھے دیکھا تو جانا بد دعا تھی محبت مر گئی مجھ کو بھی غم ہے میرے اچھے دنوں کی …

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں (جاوید اختر)

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں چھت کی کڑیوں سے اترتے ہیں مرے خواب مگر میری دیواروں سے ٹکرا کے بکھر جاتے ہیں اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں راستہ …

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا (عبیداللہ علیم)

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا یہ زندگی ہے ہماری سمبھال کر رکھنا کھلا کہ عشق نہیں ہے کچھ اور اس کے سوا ردائے یار جو ہو وہ اپنا حال کر رکھنا اسی کا کام ہے فرشِ زمیں بچھا دینا اسی کا کام  ستارے اچھال کر رکھنا اسی کا کام ہے اس دکھ …

ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ (امجد اسلام امجد)

ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ، فسانے ہو جاتے ہیں آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں، خواب پرانے ہو جاتے ہیں ساری بات تعلق والی جذبوں کی سچائی تک ہے میل دلوں میں آجائے تو گھر ویرانے ہو جاتے ہیں منظر منظر کھل اٹھتی ہے پیراہن کی قوس و قزح موسم تیرے ہنس پڑنے سے …

زمانے کے سب موسموں سے نرالے (امجد اسلام امجد)

محبت کے موسم زمانے کے سب موسموں سے نرالے بہار و خزاں ان کی سب سے جدا الگ ان کا سوکھا ، الگ ہے گھٹا محبت کے خطے کی آب و ہوا ماوراء ، ان عناصر سے جو موسموں کے تغیر کی بنیاد ہیں یہ زمان و مکاں کے کم و بیش سے ایسے آزاد …

کیا کیا ہمارے خواب تھے، جانے کہاں پہ کھو گئے (امجد اسلام امجد)

کیا کیا ہمارے خواب تھے، جانے کہاں پہ کھو گئے تم بھی کسی کے ساتھ ہو، ہم بھی کسی کے ہو گئے جانے وہ کیوں تھے، کون تھے، آئے تھے کس لئے یہاں وہ جو فشارِ وقت میں، بوجھ سا ایک ڈھو گئے اس کی نظر نے یوں کیا گردِ ملالِ جاں کو صاف ابر …

کوئی موسم ہو، دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم (امجد اسلام امجد)

کوئی موسم ہو، دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم کہ بدلا ہی نہیں جاناں تمہارے بعد کا موسم نہیں تو آزما کے دیکھ لو کیسے بدلتا ہے تمہارے مسکرانے سے دلِ ناشاد کا موسم صدا تیشے سسے جو نکلی، دلِ شیریں سے اٹھی تھی چمن خسرو کا تھا مگر رہا فرہاد کا موسم پرندوں …

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں (امجد اسلام امجد)

کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں اپنے گھر میں ہیں یا سفر میں ہیں یوں تو اڑنے کو آسماں ہیں بہت ہم ہی آشوبِ بال وپر میں ہیں زندگی کے تمام تر رستے موت ہی کے عظیم ڈر میں ہیں اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں جس قدر خواہشِ سفر میں ہیں سیپ …

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی (امجد اسلام امجد)

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی بام و در پہ نقش تحریرِ ہوا رہ جائے گی آنسوؤں کا رزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں خشک ہونٹوں پر لرزتی اک دعا رہ جائے گی رو برو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے ہم نہیں ہوں گے تو دنیا گردِ پا رہ …