اک بار کہو تم میری ہو (ابنِ انشاء)

اِک بار کہو تم میری ہو ہم گھوم چکے بستی بن میں اک آس کی پھانس لئے من میں کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو کوئی دیپک ہو کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اِک بار کہو تم میری ہو             جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھِلائے ہوں جب چندا رُوپ …

اِس کو نام جنوں کا دے لو، پیار کہو کہ دُلار کہو (ابنِ انشاء)

اِس کو نام جنوں کا دے لو، پیار کہو کہ دُلار کہو  ایسا اور کسی کا دیکھا دل کا کاروبار؟ کہو بستی میں دیوانہ سمجھو ، دشت میں ہم کو خوار کہو اُن سے ایک نہ ایک بہانے ہونا تھا دو چار کہو تم کیا سود و زیاں کی جانو ، تم جو اسے ایثار …

جب بھی گُلشن پہ گَھٹا چھائی ہے (شکیب جلالی)

جب بھی گُلشن پہ گَھٹا چھائی ہے چشمِ مَے گُوں، تِری یاد آئی ہے کِس کے جَلووں کو نظر میں لاؤں حُسن خوُد میرا تماشائی ہے آپ کا ذکر نہیں تھا لیکن بات پر بات نکل آئی ہے زندگی بخش عزائم کی قسم ناؤ ساحل کو بہا لائی ہے مُجھ کو دُنیا کی مُحبّت پہ …

لائی پھر اک لغزشِ مستانہ تیرے شہر میں( کیفی اعظمی)

لائی پھر اک لغزشِ مستانہ تیرے شہر میں پھر بنیں گی مسجدیں مے خانہ تیرے شہر میں آج پھر ٹوٹیں گی تیرے گھر کی نازک کھڑکیاں آج پھر دیکھا گیا دیوانہ تیرے شہر میں جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تیرے شہر میں شاہ نامے لکھے ہیں …

ہر اک نے کہا کیوں تجھے ارام نہ آیا (مصطفیٰ زیدی)

ہر اک نے کہا کیوں تجھے ارام نہ آیا سُنتے رہے ہم ، لب پہ تِرا نام نہ آیا دیوانے کو تکتی ہیں تِرے شہر کی گلیاں نکلا تو اِدھر لوٹ کے بدنام نہ آیا مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرے یہ دیکھ کہ تجھ پہ کوئی الزام نہ آیا کیا …

کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا (مصطفیٰ زیدی)

کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا دیکھا تو ہر جمال اِسی آئینے میں تھا قُلزم نے بڑھ کے چوم لیے پھول سے قدم دریائے رنگ و نور ابھی راستے میں تھا  اِک رشتئہ وفا تھا سو کس  ناشناس سے اِک درد حرزِ جاں تھا سو کس کے صلے میں تھا صہبائے تند …

فِگار پاؤں مرے، اشک نارسا میرے (مصطفیٰ زیدی)

فِگار پاؤں مرے، اشک نارسا میرے کہیں تو مِل مجھے، اے گمشدہ خدا میرے میں شمع کُشتہ بھی تھا، صبح کی نوید بھی تھا شکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے وہ دردِ دل میں ملا، سوزِجسم و جا ں میں ملا کہاں کہاں اسے ڈھونڈا جو ساتھ تھا میرے ہر ایک شعر میں، میں اُس …

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ (مصطفیٰ زیدی)

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ مِلے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ یونہی …

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا (مصطفیٰزیدی)

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چُھٹ گیا کوئی تو غمگسار تھا کوئی تو دوست تھا اب کس کے پاس جائیں کہ ویرانہ چھُٹ گیا دنیا تمام چُھٹ گئی پیمانے کے لیے وہ مے کدے میں آئے تو پیمانہ چُھٹ گیا کیا تیز پا تھے دن کی …

تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں​ (مصطفیٰ زیدی)

تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں​ کس کا غم، کہاں کا غم، سب فضول باتیں ہیں​ ​ اے خلوص میں تجھ کو کس طرح بچاؤں گا​ دشمنوں کی چالیں ہیں، ساتھیوں کی گھاتیں ہیں​ ​ تم پہ ہی نہیں موقوف، آج کل تو دنیا میں​ زیست کے بھی مذہب ہیں، موت …