Monthly archives: November, 2019

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے (حکیم ناصر)

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے اُس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہوگی نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے پتھرو آج مِرے سر پہ برستے کیوں ہو میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے …

جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا (ایوب رومانی)

جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا صحن گل چھوڑ گیا دل میرا پاگل نکلا جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا دل میں موجود رہا آنکھ سے اوجھل نکلا اک ملاقات تھی جو دل کو سدا یاد رہی ہم جسے عمر سمجھتے تھے وہ اک پل نکلا وہ جو افسانئہ …

پیاس بخشی ہے تو پھر اجر بھی کھل کر دینا ( محسن نقوی)

پیاس بخشی ہے تو پھر اجر بھی کھل کر دینا ابر مانگے میری دھرتی تو سمندر دینا اپنی اوقات سے بڑھنا مجھے گم کر دے گا مجھ کو سایہ بھی میرے قد کے برابر دینا یہ سخاوت میرے شجرے میں لکھی ہے پہلے اپنے دشمن کو دعائیں تہِ خنجر دینا دیکھنا ہیں میرے جوہر تو …

وہ اور تسلی مجھے دیں انکی بلا دے (بیخود موہانی)

وہ اور تسلی مجھے دیں انکی بلا دے جاتے ہوئے فرما تو گئے صبر خدا دے ہر بات کا اللہ نے بخشا ہے سلیقہ لڑنا بھی مزہ دے تیرا ملنا بھی مزہ دے اس طرح بھی غش سے کہیں ہوتا ہے افاقہ یا زلف سنگھا یا مجھے دامن کی ہوا دے دم چڑھنے لگا غصے …

وہ اپنے چہرے میں سو آفتاب رکھتے ہیں (حسرت جے پوری)

وہ اپنے چہرے میں سو آفتاب رکھتے ہیں اسی لئے تو وہ رخ پہ نقاب رکھتے ہیں وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں ہر ایک ورق میں تم ہی تم ہو جانِ محبوبی ہم اپنے دل کی کچھ ایسی کتاب رکھتے ہیں جہانِ عشق میں …

ہو چکے شکوے شکایت پھر(آغا حشر کاشمیری)

ہو چکے شکوے شکایت پھر خدا کے سامنے تم جو آ بیٹھو گے یوں ہی سر جھکا کے سامنے وصل کی شب آسماں تاروں کے جامِ زرنگار چاند کی کشتی میں لایا ہے لگا کے سامنے کر رہے تھے غیر سے میری برائی آج وہ کیا ہی جھینپے کی جو اک ‘تسلیم’ جا کے سامنے …

میرا دل چاک ہوا چاکِ گریباں کی طرح (میکش ناگپوری)

میرا دل چاک ہوا چاکِ گریباں کی طرح اب گلستاں نظر آتا ہے بیاباں کی طرح میرے سینے میں منّور ہوئے یادوں کے چراغ بزمِ خوباں کی طرح شہرِ نگاراں کی طرح کوئی مونس کوئی ہمدم کوئی ساتھی نہ ملا میں پریشاں ہی رہا زلفِ پریشاں کی طرح ختم ہو جائیگی ہر روشنی دنیا کی …

مجھے شکوہ نہیں، برباد رکھ، برباد رہنے دے (بیدم وارثی)

مجھے شکوہ نہیں، برباد رکھ، برباد رہنے دے مگر لِلّہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دے مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرّت ہے تو میں ناشاد ہی اچھّا، مجھے ناشاد رہنے دے تری شان ِ تغافل پر میری بربادیاں صدقے جو برباد ِ تمنا ہو ، اسے برباد رہنے دے نہ صحرا …

فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے (نصرت صدیقی)

فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے آؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے عرش کانپ جاتا تھا ایک دل دُکھانے سے وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے خواہشیں نہیں مرتیں خواہشیں دبانے سے امن ہو نہیں سکتا گولیاں چلانے سے دیکھ بھال کر چلنا لازمی سہی لیکن تجربے نہیں ہوتے ٹھوکریں نہ …

دل کرے گا نہ خیالِ رُخِ جاناں خالی (آباد لکھنوی)

دل کرے گا نہ خیالِ رُخِ جاناں خالی کبھی اس گھر کو نہ چھوڑے گا یہ مہماں خالی روز و شب لاکھوں ہی ارماں بھرے رہتے ہیں حسرتوں سے نہیں ہوتا دلِ ناداں خالی باغ میں دیکھ کے ترے رُخِ رنگیں کی بہار ہوگئے رنگ سے گلہائے گلستاں خالی وصل کو روز میسر نہیں ہوتا …