Monthly archives: November, 2019

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے (پیر زادہ قاسم)

سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے حبسِ جاں نہ کم ہو گا بے لباس ہونے سے اب تو میرا دشمن بھی میری طرح روتا ہے کچھ گلے تو کم ہوں گے ساتھ ساتھ رونے سے متنِ زیست تو سارا بے نمود لگتا ہے دردِ بے نہایت کا حاشیہ نہ ہونے سے سچے شعروں کا …

پرے سے دیکھو تو صرف خوشبو (منیر نیازی)

طلسمات پرے سے دیکھو تو صرف خوشبو ، قریب جاؤ تو اک نگر ہے طلسمی رنگوں سے بھیگتے گھر ، نسائی سانسوں سے بند گلیاں خموش محلوں میں خوبصورت طلائی شکلوں کی رنگ رلیاں کسی دریچے کی چِق کے پیچھے دہکتے ہونٹوں کی سرخ کلیاں پرے سے تکتی ہر اِک نظر اُس نگر کی راہوں …

کبھی چمکتے ہوئے چاند کی طرح روشن (منیر نیازی)

کبھی چمکتے ہوئے چاند کی طرح روشن کبھی طویل شبِ ہجر کی طرح غمگیں شعاعِ لعل و حنا کی طرح مہکتی ہوئیں کبھی سیاہئی کوہِ ندا میں پردہ نشیں سنبھل کے دیکھ طلسمات اُن نگاہوں کا دلِ تباہ کی رنگین پناہوں کا

اور ہیں کتنی منزلیں باقی (منیر نیازی)

اور ہیں کتنی منزلیں باقی جان کتنی ہے جسم میں باقی زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں مردہ لوگوں کی عادتیں باقی اس سے ملنا وہ خواب ہستی میں خواب معدوم حسرتیں باقی بہہ گئے رنگ و نور کے چشمے رہ گئیں ان کی رنگتیں باقی جن کے ہونے سے ہم بھی ہیں …

نگہت کی آنکھوں میں گہرے رازوں کی (منیر نیازی)

چُور دروازے نگہت کی آنکھوں میں گہرے رازوں کی کچھ باتیں ہیں سات سمندر پار کے شہروں کی کالی برساتیں ہیں دیواروں سے لپٹ لپٹ کر رونے والی راتیں ہیں نگہت کے بکھرے بالوں میں سُکھ کا خزانہ ملتا ہے دل کو عجب خیالوں میں رہنے کا بہانہ ملتا ہے ایک گلابی پھول مہک کے …

ابھی اور کچھ دن اکیلے پھرو (منیر نیازی)

 تسلی ابھی اور کچھ دن اکیلے پھرو ہواؤں سے دل کی کہانی کہو سیہ بادلوں سنگ روتے رہو کبھی چاند کو تک کے آہیں بھرو بہت جلد وہ شام بھی آئے گی نئی چھب نگاہوں کو بہلائے گی مہک گزری باتوں کی مٹ جائے گی کوئی یاد دل میں نہیں آئے گی