Monthly archives: May, 2020

المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے (محسن بھوپالی)

المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے ڈوبنے والو بچاؤ ، ناخدا خطرے میں ہے خونِ دل دینا ہی ہو گا اے اسیرانِ چمن بوئے غنچہ روئے گل دستِ صبا خطرے میں ہے مصلحت کوشی ہے یا ہے شوخئی طرزِ بیاں راہبر خود کہہ رہا ہے قافلہ خطرے میں ہے چاک دامانوں پہ محسن …

خبر کیا تھی نہ ملنے کے نئے ااسباب کردے گا (محسن بھوپالی)

خبر کیا تھی نہ ملنے کے نئے ااسباب کردے گا وہ کر کے خواب کا وعدہ مجھے بے خواب کرد ے گا کسی دن دیکھنا وہ آ کے میری کشتِ ویراں پر اچٹی سی نظر دالے گا اور شاداب کر دے گا وہ اپنا حق سمجھ کر بھول جائے گا ہر اک احساس پھر اِس …

سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہو (منیر نیازی)

سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہو کواڑ کھول کے دیکھو کہیں ہوا ہی نہ ہو نگاہِ آئنہ معلوم ، عکس نامعلوم دکھائی دیتا ہے جو اصل میں چھپا ہی نہ ہو زمیں کے گرد بھی پانی  زمیں کی تہ میں بھی یہ شہر جم کے کھڑاہے جو تیرتا ہی …

دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہا (منیر نیازی)

دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہا جب تک رہا میں ساتھ مرے یہ ہنر رہا صبحِ سفر کی رات تھی تارے تھے اور ہوا سایہ سا ایک دیر تلک بام پر رہا میری صدا ہوا میں بہت دور تک گئی پر میں بلا رہا تھا جسے بے خبر رہا گزری ہے …

بیت گیا طوفان پریت کا (منیر نیازی)

خوشی کا گیت بیت گیا طوفان پریت کا بیت گیا طوفان ساری رات کٹھن تھی کتنی جیسے جلے پہاڑ درد کا بادل گرجا جیسے بندوقوں کی باڑ بجلی بن کر کڑک رہے تھے چاہت کے ارمان بیت گیا طوفان ختم ہوا وہ ارمانوں کے پاگل پن کا زور مدھم ہو کر مِٹا سلگتی تیز ہوا …

چمن میں رنگِ بہار اُترا تو میں نے دیکھا (منیر نیازی)

چمن میں رنگِ بہار اُترا تو میں نے دیکھا نظر سے دل کا غبار اُترا تو میں نے دیکھا میں نیم شب آسماں کی وسعت کو دیکھتا تھا زمیں پہ وہ حسن زار اُترا  تو میں نے دیکھا گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے جو سایئہ کوۓ یار اُترا تو میں نے دیکھا …

آس پاس کوئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے (منیر نیازی)

راستے کی تھکن آس پاس کوئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے شام بھی جیسے کسی پرانے سوگ میں ڈوبی آئی ہے پل پل بجلی چمک رہی ہے اور میلوں تنہائی ہے کتنے جتن کیے ملنے کو پھر بھی کتنی دوری ہے چلتے چلتے ہار گیا ہوں پھر بھی راہ ادھوری ہے گھائل ہے …

شراپ دے کے جا چکے ہیں سخت دل مہاتما (منیر نیازی)

 آتما کا روگ شراپ دے کے جا چکے ہیں سخت دل مہاتما سَمے کی قید میں بھٹک رہی ہے آتما کہیں سلونے شیام ہیں نہ گوپیوں کا پھاگ ہے نہ پائلوں کا شور ہے نہ بانسری کا راگ ہے بس اک اکیلی رادھیکا ہے اور دُکھ کی لاگ ہے ڈراؤنی صداؤں سے بھری ہیں رات …