Monthly archives: May, 2020

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں (منیر نیازی)

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں تو آ کے جا بھی چکا میں انتظار میں ہوں مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں میں اپنے گھر میں ہوں یا کسی مزار میں ہوں درِ فصیل کھلا یا پہاڑ سر سے ہٹا میں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگ زار میں …

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں (منیر نیازی)

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم کہہ سکے جو دل …

ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا (داغ دہلوی)

ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا حقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا تجھے دیکھ کر وہ دوئی اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی دیکھا نہ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جنہوں نے ہزاروں حجابوں میں پروانہ دیکھا نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیں نہ ڈھونڈا نہ پایا …

اس قدر نازہے کیوں آپ کو یکتائی ک (داغ دہلوی)

اس قدر نازہے کیوں آپ کو یکتائی کا دوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کا کیا چھپے راز الٰہی دلِ شیدائی کا عرصئہ حشر تو بازار ہے رسوائی کا جان لے جائے گا آنا شبِ تنہائی کا کون اب روکنے والا ہے مری آئی کا خوگرِ رنج و بلا حشر کے دن کیا خوش …

شاعرِ فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں (جگر مراد آبادی)

شاعرِ فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں رُوح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میں آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں جس قدر افسانئہ ہستی کو دہراتا ہوں میں اور بھی بیگانئہ ہستی ہوا جاتا …

اب نہیں لوٹ کے آنے والا (اختر نظمی)

اب نہیں لوٹ کے آنے والا گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا ہو گئیں کچھ اِدھر ایسی باتیں رُک گیا روز کا آنے والا عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے اک تصویر بنانے والا لاکھ ہونٹوں ہی ہنسی ہو لیکن خوش نہیں خوش نظر آنے والا زد میں طوفاں کی آیا کیسے پیاس ساحل سے …

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا ایا (ساحر لدھیانوی)

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا ایا بات نکلی تو ہر اک بات  پہ رونا آیا ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو کیا ہوا اج کس بات پہ رونا آیا کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں بارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا کون روتا ہے …

یہ کس ادا سے کرشمے دکھائے جاتے ہیں (سیماب اکبر آبادی)

یہ کس ادا سے کرشمے دکھائے جاتے ہیں ادا شناس بھی دھوکے میں آئے جاتے ہیں جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں بنا کے دل مری مٹی سے لائے جاتے ہیں انہیں ستم کے سلیقے سکھائے جاتے ہیں جنہیں سپرد ہے گلگشتِ حسن کی …

رہ و رسم آشنا ہوں ، سعی میری رائیگاں کیوں ہو (سیماب اکبر آبادی)

رہ و رسم آشنا ہوں ، سعی میری رائیگاں کیوں ہو جو منزل سے بھٹک جائے وہ میرا کارواں کیوں ہوں مِلو تو ہر جگہ ، یعنی تعین کی حدیں توڑو نہیں ہے جب مکاں کی قید ، قیدِ لا مکاں کیوں ہو جبیں ہم جس جگہ رکھ دیں گے اک کعبہ بنا لیں گے …

کیوں ہنسی تو اے اجل ! فانی اگر سمجھا مجھے (سیماب اکبر ابادی)

کیوں ہنسی تو اے اجل ! فانی اگر سمجھا مجھے ایک دن سب کو فنا ہے ، کیا تجھے اور کیا مجھے غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا ایک دل دے کے خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے ہے حصولِ آرزو کا راز ، ترکِ آرزو میں نے دُنیا چھوڑ دی تو مِل …