Monthly archives: May, 2020

پچھلی مسافتوں کے نشاں دیکھتے چلیں (آشفتہ چنگیزی)

پچھلی مسافتوں کے نشاں دیکھتے چلیں روشن ہے بزمِ شعلہ رخاں دیکھتے چلیں رستے میں ایک گھر ہے جہاں منتظر ہیں لوگ آئیں گے بار بار کہاں دیکھتے چلیں موسم کئی طرح کے گزارے ہیں دوستو اب کے ہے کیا مزاجِ خزاں دیکھتے چلیں یہ کون سی جگہ ہے جہاں آس پاس بھی آہٹ کوئی، …

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ (اعتبار ساجد)

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورتِ حال کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے یا جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے …

وہ جو دعویدار ہے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ہوں (اعتبار ساجد)

وہ جو دعویدار ہے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ہوں کبھی آکے مجھ سے تو پوچھتا کہ میں کس کے غم میں اداس ہوں یہ مری کتابِ حیات ہے اسے دل کی آنکھ سے پڑھ ذرا میں ورق ورق ترے سامنے ترے روبرو ترے پاس ہوں یہ تری امید کو کیا ہوا کبھی …

مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا (اعتبار ساجد)

مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا تمہارے کام آ جائے گا، یہ سامان لے جانا تمہارے بعد کیا رکھنا انا سے واسطہ کوئی تم اپنے ساتھ میرا عمر بھر کا مان لے جانا شکستہ سے کچھ ریزے پڑے ہیں فرش پر، چن لو اگر تم جوڑ سکتے ہو تو یہ گلدان لے …

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے (افتخار عارف)

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے …

عاشقی میں میر جیسے خواب مت دیکھا کرو (احمد فراز)

عاشقی میں میر جیسے خواب مت دیکھا کرو باؤلے ہو جاؤگے مہتاب مت دیکھا کرو جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضمونِ وفا پر کتابِ عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں ڈوبنے والوں کو زیرِ آب مت دیکھا کرو مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں …

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا (محسن بھوپالی)

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ بڑا دلنشین رکھتا تھا ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن کسے بتاؤں کہ میں بھی امین رکھتا تھا اتر گیا ہے رگوں میں مری لہو بن کر وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا گزرنے والے نہ یوں سرسری گزر دل سے مکاں شکستہ …

چمن چمن اُسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں (محسن بھوپالی)

چمن چمن اُسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیں ہر ایک جلوے میں جلوہ نما کو دیکھتے ہیں یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنے والے تجھے خبر بھی ہے آبِ بقا کو دیکھتے ہیں جو تیرے ہونٹ ہلیں تو پھوار پڑتی ہے ترے سکوت میں شہرِ نوا کو دیکھتے ہیں ترے ستم میں بھی ہم …

جو غم شناس ہو ایسی نظر تجھے بھی دے (محسن بھوپالی)

جو غم شناس ہو ایسی نظر تجھے بھی دے یہ آسماں غمِ دیوار و در تجھے بھی دے سخنِ گلاب کو کانٹوں میں تولنے والے خدا سلیقئہ عرضِ ہنر تجھے بھی دے خراشیں روز چنے اور دل گرفتہ نہ ہو یہ ظرفِ آئنہ ، آئنہ گر تجھے بھی دے ہے وقت سب سے بڑا منتقم …

پہلو میں دل ہو اور دہن میں زباں نہ ہو (محسن بھوپالی)

پہلو میں دل ہو اور دہن میں زباں نہ ہو میں کیسے مان لوں کہ حقیقت بیاں نہ ہو ہم نے تو اپنے خوں سے جلائی ہیں مشعلیں ہم سے تو اے نگارِ سحر بدگماں نہ ہو میرے سکوتِ لب پہ بھی الزام آگئے میری طرح چمن میں کوئی بے زباں نہ ہو محسن ہمارے …