پچھلی مسافتوں کے نشاں دیکھتے چلیں (آشفتہ چنگیزی)
پچھلی مسافتوں کے نشاں دیکھتے چلیں روشن ہے بزمِ شعلہ رخاں دیکھتے چلیں رستے میں ایک گھر ہے جہاں منتظر ہیں لوگ آئیں گے بار بار کہاں دیکھتے چلیں موسم کئی طرح کے گزارے ہیں دوستو اب کے ہے کیا مزاجِ خزاں دیکھتے چلیں یہ کون سی جگہ ہے جہاں آس پاس بھی آہٹ کوئی، …