Category «ناصر کاظمی»

گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں (ناصر کاظمی)

گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں کوئی بھی یادگارِ رفتہ نہیں فرصتِ شوق بن گئی دیوار اب کہیں بھاگنے کا رستہ نہیں ہوش کی تلخیاں مٹیں کیسے جتنی پیتا ہوں اتنا نشّہ نہیں دل کی گہرائیوں میں ڈوب کے دیکھ کوئی نغمہ خوشی کا نغمہ نہیں غم بہر رنگ دل کشا ہے مگر سننے والوں …

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے (ناصر کاظمی)

میں ہوں رات کا ایک بجا ہےخالی رستہ بول رہا ہے آج تو یوں خاموش ہے دنیاجیسے کچھ ہونے والا ہے کیسی اندھیری رات ہے دیکھواپنے آپ سے ڈر لگتا ہے آج تو شہر کی روش روش پرپتوں کا میلہ سا لگا ہے آو گھاس پہ سبھا جمائیںمیخانہ تو بند پڑا ہے پھول تو سارے …

یہ سِتَم اور، کہ ہم پُھول کہیں خاروں کو (ناصر کاظمی)

یہ سِتَم اور، کہ ہم پُھول کہیں خاروں کو اِس سے تو آگ ہی لگ جائے سمن زاروں کو ہے عبث فکرِ تلافی تُجھے، اے جانِ وفا دُھن ہے اب اور ہی کُچھ، تیرے طلبگاروں کو تنِ تنہا ہی گُذاری ہیں اندھیری راتیں ہم نے گبھرا کے، پُکارا نہ کبھی تاروں کو ناگہاں پُھوٹ پڑے …

یاد آتا ہے روز و شب کوئی (ناصر کاظمی)

یاد آتا ہے روز و شب کوئی ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی لبِ جُو چھاؤں میں درختوں کی وہ ملاقات تھی عجب کوئی جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا وہ بھی تھا موسمِ طرب کوئی کچھ خبر لے کے تیری محفل سے دور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی نہ غمِ زندگی نہ دردِ …

ﻭﮦ ﺍِﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﯾُﻮﮞ ﺑَﮭﻼ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ (ناصر کاظمی)

ﻭﮦ ﺍِﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﯾُﻮﮞ ﺑَﮭﻼ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﺎﺭ ﻣِﻠﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺁﺷﻨﺎ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺧﺎﺹ ﻋِﻨﺎﯾﺖ ﮐﮧ ﺳَﻮ ﮔُﻤﺎﮞ ﮔُﺰﺭﯾﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﻃﺮﺯِ ﺗﻐﺎﻓﻞ، ﮐﮧ ﻣﺤﺮﻣﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﯼ ﺍﺩﺍﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺑِﺠﻠﯿﺎﮞ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻟﺒﺮﺍﻧﮧ ﻣﺮُﻭّﺕ ﮐﮧ ﻋﺎﺷﻘﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﺩﺍﻍِ ﻣﺤﺒّﺖ ﺟﻮ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳُﻨﺎﺅﮞ …

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں (ناصر کاظمی)

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آرزو ہے کہ تُو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ مِلا کر اداس لوگوں سے حُسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں آؤ …

فکر تعمیر آشیاں بھی ہے (ناصر کاظمی)

فکر تعمیر آشیاں بھی ہے خوف بے مہری خزاں بھی ہے خاک بھی اڑ رہی ہے رستوں میں آمد صبح کا سماں بھی ہے رنگ بھی اڑ رہا ہے پھولوں کا غنچہ غنچہ شرر فشاں بھی ہے اوس بھی ہے کہیں کہیں لرزاں بزم انجم دھواں دھواں بھی ہے کچھ تو موسم بھی ہے خیال …

کون اس راہ سے گزرتا ہے (ناصر کاظمی)

کون اس راہ سے گزرتا ہے دل تو یونہی انتظار کرتا ہے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے شہرِ گل میں کٹی ہے ساری رات دیکھیے دن کہاں گزرتا ہے دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے دل تو میرا اداس ہے ناصر شہر …

کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں (ناصر کاظمی)

کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پا س ہو تھوڑی سی خاکِ کوچئہ دلبر ہی لے چلیں یہ کہہ کے …

دل میں اِک لہر سی اتھی ہے ابھی (ناصر کاظمی)

دل  میں اِک لہر سی اتھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی شور برپا ہے خانئہ دل میں کوئی دیوار سی گری ہے ابھی بھری دُنیا میں جی نہیں لگتا جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی اور کچھ چوٹ بھی نئی ہے ابھی تم تو …