Category «پروین شاکر»

سکوں بھی خواب ہوا نیند بھی ہے کم کم پھر (پروین شاکر)

سکوں بھی خواب ہوا نیند بھی ہے کم کم پھر قریب آنے لگا ہے دوریوں کا موسم پھر بنا رہی ہے تری یاد مجھ کو سلک گُہر پرو گئی مری پلکوں میں  آج شبنم پھر وہ نرم لہجے میں کچھ کہہ رہا ہے پھر مجھ سے چھڑا ہے پیار کے کومل سروں میں مدھم پھر …

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے (پروین شاکر)

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتےشام کے وقت سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیںاپنے آنے کی خبر کیا کرتے جب ستارے ہی نہیں مل پائےلے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھاسائے پھیلا کے شجر کیا کرتے خاک ہی اوّل و آخر ٹھہریکر کے ذرّے کو …

ہجر کی شب کا کسی اسم سے کٹنا مشکل (پروین شاکر)

ہجر کی شب کا کسی اسم سے کٹنا مشکل چاند پورا ہے تو پھر درد کا گھٹنا مشکل موجئہ خواب ہے وہ، اس کے ٹھکانے معلوم اب گیا ہے تو یہ سمجھو کہ پلٹنا مشکل جن درختوں کی جڑیں دل میں اتر جاتی ہیں ان کا آندھی کی درانتی سے بھی کٹنا مشکل قوتِ غم …

دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا (پروین شاکر)

دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا مسکراتے ہوئے رخصت کرنا اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اُ سکو کچھ تو لازم ہوا وحشت کرنا جُرم کس کا تھا، سزا کس کو ملی کیا گئی بات پہ حجت کرنا کون چاہے گا تمہیں میری طرح اب کسی سے نہ محبت کرنا گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے …

لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے (پروین شاکر)

لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے خوشبو تو سانس لینے کو ٹھہری تھی راہ میں ہم بدگماں ایسے کہ گھر کو پلٹ گئے ملنا__دوبارہ ملنے کو وعدہ__جُدائیاں اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے روئی ہوں آج کھُل کے، بڑی مُدتوں کے بعد بادل جو …

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح (پروین شاکر)

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے جل چکے ہیں  مرے خیمے، مرے  خوابوں کی طرح ساعتِ دید کے عارض ہیں گلابی اب تک اولیں لمحوں کے گُلنار حجابوں کی طرح وہ سمندر ہے تو …

کیسے چهوڑیں اسے تنہائی پر(پروین شاکر)

کیسے چهوڑیں اسے تنہائی پر حرف آتا ہے مسیحائی پر اس کی شہرت بهی تو پھیلی ہر سو پیار آنے لگا رسوائی پر ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں جاناں تیری تصویر کی زیبائی پر رشک آیا ہے بہت حسن کو بهی قامتِ عشق کی رعنائی پر سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں آنکھ جاتی نہیں گہرائی …

اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہے (پروین شاکر)

اسی میں خوش ہوں مرا دکھ کوئی تو سہتا ہے چلی چلوں گی جہاں تک یہ ساتھ رہتا ہے زمین دل یوں ہی شاداب تو نہیں اے دوست قریب میں کوئی دریا ضرور بہتا ہے گھنے درختوں کے گرنے پہ ماسوائے ہوا عذاب در بدری اور کون سہتا ہے نہ جانے کون سا فقرہ کہاں …