گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا (مومن خان مومن)
گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا دَم کاہے کو یوں اے دلِ ناکام نکلتا میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اُس کے قاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا ہر ایک سے اُس بزم میں شب پُوچھتے تھے نام تھا لُطف جو کوئی مِرا ہم نام نکلتا …