ٹپ ٹپ بوندیں ، بے کل خواہش (فہمیدہ ریاض)
خوشبو ٹپ ٹپ بوندیں ، بے کل خواہش ساون رُت چھائی ہے ہر سُو آم کے پیڑوں سے آتی ہے کوئل کی آوارہ کُو کُو غم ، دھرتی کی سوندھی خوشبو سوئی یادوں کو سہلائے بیتی برساتوں کی گپھا میں کھوئے کھوئے چھنکے گھنگھرو لہر لہر بے چین ہے ساگر ساحل پیاسا ذرہ …