Category «شاعری»

دل عجب گنبد کہ جس میں اِ ک کبوتر بھی نہیں (عدیم ہاشمی)

دل عجب گنبد کہ جس میں اِ ک کبوتر بھی نہیں اتنا ویراں تو مزاروں کا مقدر بھی نہیں جتنے ہنگامے تھے سوکھی ٹہنیوں سے جھڑ گئے پیڑ پر پھل بھی نہیں آنگن میں پتھر بھی نہیں جتنی پیاری ہیں مِری دھرتی کو زنجیریں عدیم اتنا پیارا تو کسی دلہن کو زیور بھی نہیں

بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ (عدیم ہاشمی)

بڑا ویران موسم ہے کبھی ملنے چلے آؤ ہر اک جانب ترا غم ہے کبھی ملنے چلے آؤ ہمارا دل کسی گہری جدائی کے بھنور میں ہے ہماری آنکھ بھی نم ہے کبھی ملنے چلے آؤ مرے ہمراہ گرچہ  دور تک لوگوں کی رونق ہے مگر جیسے کوئی کم ہے کبھی ملنے چلے آؤ تمہیں …

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا (عدیم ہاشمی)

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا بھاگتا ہوں ایسے ہر طرف ہوا کے ساتھ ساتھ جس طرح سچ مچ مجھے اس کا پتہ مل جائے گا کس طرح روکو گے اشکوں کو پسِ دیوارِ چشم یہ تو پانی ہے، اسے تو راستہ …

رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا (خالد شریف)

رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا بچھڑا کچھ ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی  اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا دلچسپ واقعہ ہے کہ کل اک عزیز دوست اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا کتنی سدھر گئی ہے جدائی …

آج احساس ہوا ہے مجھ کو (خالد شریف)

کزن آج احساس ہوا ہے مجھ کو تم نے سر پاؤں پہ رکھ کر میرے بھیک مانگی تھی رفاقت کی جب میں نے کچھ بننے کی دھن میں اس وقت اور کوئی حور کوئی اپسرا پانے کے لیے یا کسی اپنے سے مضبوط گھرانے کے لیے تم کو تڑپایا تھا، ٹھکرایا تھا آخری اپنی ملاقات …

محرابِ جاں میں شمع جلاتے نہیں ہو تم (جوش ملیح ابادی)

محرابِ جاں میں شمع جلاتے نہیں ہو تم اب مسکرا کے سامنے آتے نہیں ہو تم پہلے مری نظر تھی اور ارزانئی جمال اب خواب میں بھی شکل دکھاتے نہیں ہو تم جس کا ہر ایک حرف تھا اک دفترِ نشاط وہ بات اب زبان پہ لاتے نہیں ہو تم یک لخت تم نے جوش …

اے شخص! اگر جوش کو تو ڈھونڈنا چاہے (جوش ملیح آبادی)

پروگرام اے شخص ! اگر جوش کو تو ڈھونڈنا چاہے وہ پچھلے پہر حلقئہ عرفاں میں ملے گا اور صبح کو ناظرِ نظارۃ قدرت طرفِ چمن و صحنِ بیاباں میں ملے گا اور دن کو وہ سرگشتئہ اسرار و معانی شہر ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گا اور شام کو وہ مردِ خدا رندِ …

جب یہ چھوٹا سا اک بول زباں پر آتا ہے (پروین فنا سید)

حرفِ وفا جب یہ چھوٹا سا اک بول زباں پر آتا ہے !میں ڈر جاتی ہوں اور تمہیں اصرار کہ میں یہ حرف دہراتی جاؤں روزِ ابد تک کہتی جاؤں، گاتی جاؤں لیکن میں ڈر جاتی ہوں خود اپنے آپ سے اپنے دل کی سچائی سے جب یہ بول زبان تک آ جاتا ہے یوں …

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے (فیض احمد فیض)

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے رنگ و خوشبو کے حسن و خوبی کے  تم سے تھے جتنے استعارے تھے تیرے قول و قرار سے پہلے اپنے کچھا اور بھی سہارے تھے جب وہ لعل و گہر حساب کئے جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے میرے …

پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے (فیض احمد فیض)

پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے جانے کس کس کو آج رو بیٹھے تھی، مگر اتنی رائیگاں بھی نہ تھی آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے ساری دنیا سے دور ہو جائے جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے نہ گئی تیری بے رُخی نہ …