غزل (سلیم احمد)
زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے گھاس اس قبر پہ کچھ اور ہری لگتی ہے روز کاغذ پہ بناتا ہوں میں قدموں کے نقوش کوئی چلتا نہیں اور ہم سفری لگتی ہے گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے …
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے گھاس اس قبر پہ کچھ اور ہری لگتی ہے روز کاغذ پہ بناتا ہوں میں قدموں کے نقوش کوئی چلتا نہیں اور ہم سفری لگتی ہے گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے …
یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں او وفا ناآشنا کب تک سنوں تیرا گلہ بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور …
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تِری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی لے گیا چھین کے کون آج تِرا صبر و قرار بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی اُس کی آنکھوں نے خدا جانے کِیا کیا جادو کہ طبیعت مِری مائل کبھی ایسی تو …
اک خلش کو حاصلِ عمرِ رواں رہنے دیا جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا راز کی باتیں لکھیں اور خط کھلا رہنے دیا جانے کیوں رسوائیوں کا سلسلہ رہنے دیا آرزوِ قرب بھی بخشی دلوں کو عشق نے فاصلہ بھی میرے ان کے درمیاں رہنے دیا کتنی دیواروں کے …
آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا اور وہ غم بھی مجھ کو اک دن دیکھتا رہ جائئے گا سوچتا ہوں اشکِ حسرت ہی کروں نظرِ بہار پھر خیال آتا ہے میرے پاس کیا رہ جائے گا اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا …
حرفِ تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے اک حجابِ تہِ اقرار ہے مانع ورنہ گُل کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے ریت ہی ریت ہے اس …
آنسوؤں کے طوفاں میں بجلیاں دبی رکھنا سرد سرد آہوں میں گرمیاں دبی رکھنا کیفیت غمِ دل کی عیاں نہ ہو چہرے سے پردۃ تبسم میں تلخیاں دبی رکھنا کون سننے والا ہے بے حسوں کی دنیا میں اپنے غم کی سینے میں داستاں دبی رکھنا کس قدر انوکھا ہے شیوہ اہلِ …
تو نے اے رفیقِ جاں اور ہی گل کھلا دیئے بخیہ گری کے شوق میں نئے زخم لگادیئے دستِ ہوا نے ریت پر پہلے بنائے راستے پھر مرے گھر کے راستے گھر سے ترے ملا دیئے کتنی تھی اجنبی فضا پہلے پہل فراق میں درد کے اشتراک نے دوست کئی بنا دیئے آمدِ یار کی …
یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں اُسے ڈھونڈیں کہ اُس کو بھول جائیں خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں یہ رستے رہروؤں سے بھاگتے ہیں یہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں یہ پانی خامشی سے بہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں جو غم جلتے ہیں …
اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیا جلایئے عشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپایئے اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے میں نے کہا کہ چھوڑیئے اب انہیں بھول جایئے کیسے نفیس تھے مکاں صاف تھا کتنا آسماں میں نے کہا کہ وہ سماں آج کہاں …