کم سخن ہیں پسِ اظہار ملے ہیں تجھ سے (عباس تابش)

کم سخن ہیں پسِ اظہار ملے ہیں تجھ سے ملنا یہ ہے تو کئی بار ملے ہیں تجھ سے جانتے ہیں کہ نہیں سہل محبت کرنا یہ تو اک ضد میں مرے یار ملے ہیں تجھ سے تیز رفتارئی دنیا کہاں مہلت دے گی ہم سرگرمئی بازار ملے ہیں تجھ سے کبھی لاتے ترے واسطے …

تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں(عباس تابش)

تیرے لیے سب چھوڑ کے تیرا نہ رہا میں دنیا بھی گئی عشق میں تجھ سے بھی گیا میں اک سوچ میں گم ہوں تری دیوار سے لگ کر منزل پہ پہنچ کے بھی ٹھکانے نہ لگا میں ورنہ  کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا …

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا (جاوید اختر)

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھی بھر لینا بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا مجھے دشمن سے بھی خودادری کی امید رہتی ہے کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں …

مجھ کو رسوا سرِ محفل تو نہ کروایا کرے (نوشی گیلانی)

مجھ کو رسوا سرِ محفل تو نہ کروایا کرے کاش آنسو مری آنکھ میں ہی رہ جایا کرے اے ہوا میں نے تو بس اس کا پتہ پوچھا تھا اب کہانی تو نہ ہر بات کی بن جایا کرے بس بہت دیکھ لیے خواب سہانے دن کے اب وہ باتوں کی رفاقت سے نہ بہلایا …

کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ، کچھ نہ کہو خاموش رہو (ابنِ انشاء)

کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ، کچھ نہ کہو خاموش رہو اے لوگو خاموش رہو، ہاں اے لوگو خاموش رہو سچ اچھا پر اس کے جلو میں زہر کا ہے اک پیالہ بھی پاگل ہو کیوں ناحق سقرط بنو، خاموش رہو ان کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے سر آنکھوں پر، …

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے (افضل خان)

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے ورنہ رہگیر کو جانے کی اجازت دی جائے اس قدر ضبط مری جان بھی لے سکتا ہے کم سے کم اشک بہانے کی اجازت دی جائے کارِ دنیا مجھے مجنوں نہیں بننا لیکن عشق میں نام کمانے کی اجازت دی جائے پھر نہیں ہوگا مرا شہرِ خموشاں …

اس نے جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن (محسن نقوی)

اس نے جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن میں نے تب تب یہ بتایا کہ تمہارا محسن لوگ صدیوں کی خطاؤں پہ بھی خوش بستے ہیں ہم کو لمحوں کی وفاؤں نے اجاڑا محسن جب ہو گیا یقیں کہ وہ پلٹ کر نہیں آئے گا غم اور آنسو نے دیا دل کو سہارا محسن …

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا (جمال احسانی)

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا جانے والے ترا جانا نہیں دیکھا جاتا تیری مرضی ہے جدھر انگلی پکڑ کے لے جا مجھ سے اب تیرے علاوہ نہیں دیکھا جاتا یہ حسد ہے کہ محبت کی اجارہ داری درمیاں اپنا بھی سایہ نہیں دیکھا جاتا تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے …

دنیا کے جور پر نہ ترے التفات پر (عبد الحمید عدم)

دنیا کے جور پر نہ ترے التفات پر میں غور کر رہا ہوں کسی اور بات پر دیکھا ہے جو مسکرا کے اس مہ جبیں نے جوبن سا آگیا ہے ذرا واقعات پر دیتے ہیں حکم خود ہی مجھے بولنے کا آپ پھر ٹوکتے ہیں آپ مجھے بات بات پر میں جانتا تھا تم بڑے …

لمحے لمحے کی نارسائی ہے (جون ایلیا)

لمحے لمحے کی نارسائی ہے زندگی حالتِ جدائی ہے مردِ میداں ہوں اپنی ذات کا میں میں نے سب سے شکست کھائی ہے اک عجب حال ہے کہ اب اس کو یاد کرنا بھی بے وفائی ہے اب یہ صورت ہے جانِ جاں کے تجھے بھولنے میں ہی میری بھلائی ہے خود کو بھولا ہوں …