چُپکے چُکے رات دن انسو بہانا یاد ہے (حسرت موہانی)
چُپکے چُکے رات دن انسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے باہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مِرا پردے کا کونہ دفعتاً اور دوپٹے سے تِرا وہ منہ چھپانا یاد ہے تجھ سے کچھ مِلتے …